آسیہ مسیح کے شوہرعاشق مسیح نے امریکہ سمیت برطانیہ اور کینیڈا کو بھی پناہ کی درخواست دے دی

اسلام آباد : توہین رسالت کیس میں سپریم کورٹ سے بریت حاصل کرنے والی آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مدد کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے تحریک لبیک سے معاہدے کے بعد ان کے خاندان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں،اس لئے وہ میرے خاندان کی مدد کریں اور جہاں تک ممکن ہو ہمیں آزادی دلائیں،عاشق مسیح نے برطانیہ اور کینیڈا سے بھی اپنے خاندان کو ’ ’ پناہ دینے‘‘ کی درخواست کی ہے تاہم دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ آسیہ بی بی کی جان کو کوئی خطرہ نہیں اور ان کی سیکیورٹی بھی بڑھا دی گئی ہے۔

جرمن خبر رساں ادارے کے مطابق آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح نے کہا ہے کہ اسے اپنے خاندان کی سلامتی کے بارے میں تشویش ہے، آسیہ بی بی بی کی بریت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کو رکوانے کے لیے حکومت اور تحریک لبیک کے مابین معاہدے کے بعد وہ اور ان کا خاندان خوفزدہ ہے۔عاشق مسیح نے کہا کہ حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان ہونے والے معاہدے سے ان میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے،موجودہ صورتحال ہمارے لیے بہت خطرناک ہے،ہماری کوئی سیکیورٹی نہیں اور ہم یہاں چھپ کر بیٹھے ہیں اور بار بار اپنا ٹھکانہ تبدیل کر رہے ہیں۔عاشق مسیح نے اپنے بھائی جوزف ندیم کے لیے بھی پاکستان سے رخصتی اور بیرون ملک ’’پناہ‘‘ کی اپیل کی ہے۔دوسری طرف وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ’’بی بی سی‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آسیہ بی بی کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور حکومت تمام صورتحال سے نمٹ رہی ہے ،حکومت ضمانت دیتی ہے کہ آسیہ بی بی کی زندگی خطرے میں نہیں ہے۔وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے مظاہرین سے معاہدے کو’ فائر فائٹنگ` قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں بغیر کسی تشدد کے معاملے کو حل کرنے میں مدد ملی تاہم اس کا قطعی طور پر یہ مطلب نہیں ہے کہ حکومت مظاہرین کے سامنے پسپا ہو گئی۔واضح رہے کہ اس سے قبل آسیہ مسیح کے وکیل سیف الملوک بھی گذشتہ روز اپنے خاندان سمیت بیرون ملک روانہ ہو گئے تھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں