اعظم سواتی کی درخواست پر آئی جی کو ہٹایا گیا

اسلام آباد : وفاقی وزیر اعظم سواتی نے کہاہے کہ مخالفین نے مجھے اڑانے کی دھمکی دی جس پر میں نے ڈی ایس پی سے رابطہ کیا تو انہوں نے ایس ایس پی سے رابطہ کرنے کا کہا ، ایس ایس پی سے رابطہ کرنے پر کہا گیا کہ آئی جی اسلام آباد کو تحریری درخواست دوں، چیئرمین سینٹ ، اور شبلی فراز کوبھی بتایا ، آئی جی نے 38مرتبہ کال کرنے کے باوجود22گھنٹے گزرنے پر بھی کوئی کارروائی نہیں کی ۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم سواتی نے کہا کہ مخالفین نے 25اکتوبر کو میرے سکیورٹی گارڈکودھمکی دی کہ ہم علاقہ غیر کے لوگ ہیں اور تم کو اور تمہارے خان کو بم سے اڑا دیں گے ۔ اس کے بعد میں نے ڈی ایس پی کو فون کیا جنہوں نے مجھے ایس ایس پی کوکال کرنے کا کہا جس پر میں نے ایس ایس پی امین بخاری کوکال کی تو انہوں نے مجھے کہا کہ آپ آئی جی اسلام آباد کودرخواست دیں جس پر میں نے آئی جی کو تحریری درخواست کی لیکن اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی ، دھمکی دینے والوں کے مویشیوں نے میرے باغیچے کو نقصان پہنچایا اورمیرے ملازمین کو تشدد کانشانہ بنایا، ان کوڈنڈوں اور کلہاڑیوں سے زخمی کیا گیا جو اس وقت پمزہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے آئی جی کو 38مرتبہ کا ل کی لیکن 22گھنٹے گزرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔میں نے اس حوالے سے چیئر مین سینٹ کوبتایا اور شبلی فراز سے بھی بات کی ۔انہوں نے کہا کہ بارہ سال کا کوئی بچہ گرفتار نہیں کیاگیا ، میں تمام حقائق کے ثبوت سپریم کورٹ میں لے کرجارہاہے ہوں ، میں خود جاکر سپر یم کورٹ کے سامنے ثبوت رکھوں گا اور مجھے امیدہے کہ سپریم کورٹ سے انصاف ضرور ملے گا ۔انہوں نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد کوہم نے نہیں لگایا بلکہ ان کونگران حکومت نے رکھا تھا اور ہم نے بھی تنگ نہیں کیا لیکن میں وثوق سے کہتاہوں کہ لوگوں نے آئی جی اسلام آباد کی شکایات ضرور کی ہونگی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں