بیرون ملک پاکستانی اب صرف ایک موبائل فون لا سکیں گے

لاہور: حکومت نے اووسیز پاکستانیوں پر ایک اور پابندی عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانی سال بھر میں صرف ایک موبائل فون پاکستان لا سکیں گے۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے اسمگل شدہ موبائل فونز کے خلاف اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ 13 دسمبر کی مہلت کے بعد اسمگل ہونے والے موبائل فون بند ہو جائیں گے۔
مقامی طور پر بننے والے موبائل فونز کی پیداوار کو فروغ دیا جائے گا۔ اس بات کا فیصلہ جمعہ کے روز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔ اس حوالے سے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ 82 ملین کے موبائل فونز پر ٹیکس ادا ہو رہا ہے۔ ڈھائی ارب روپے کے موبائل فونز غیر قانونی طریقے سے آ رہے ہیں جن پر ٹیکس ادا نہیں ہو رہا۔

اسی لیے اب اسمگل شدہ موبائل فونز کے خلاف اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ اس مقصد کیلئے ڈی آئی آر بی ایس سسٹم کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا۔ وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ 31 دسمبر کی مہلت کے بعد اسمگل ہونے والے موبائل فون بند ہو جائیں گے۔ جبکہ مقامی طور پر بننے والے موبائل فونز کی پیداوار کو فروغ دیا جائے گا۔ وزیراطلاعات نے مزید بتایا ہے کہ 31 دسمبر تک پہلے سے استعمال شدہ موبائل فونز کی اگر تصدیق کروا لی جائے، تو ایسے میں یہ موبائل فونز بلاک نہیں کیے جائیں گے۔
تاہم 31 دسمبر کے بعد پاکستان میں آنے والے تمام سمگل شدہ موبائل فونز بلاک کر دیے جائیں گے۔ دوسری جانب حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں پر پابندی عائد کردی ہے کہ وہ پورے سال میں اپنے خاندان کے لیے محض ایک موبائل فون لاسکیں گے ۔وزیر مملکت حماد اظہر کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کو سال بھر میں بیرون ملک سے صرف ایک موبائل فون لانے کی اجازت ہو گی اور اس پر انکو کسی قسم کی ڈیوٹی ادا نہیں کرنا پڑے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ لگیج رولز کے مطابق اوورسیز پاکستانیوں کو اپنے ساتھ زیادہ سے زیادہ 5 موبائل فون لانے کی اجازت ہو گی لیکن بقیہ 4 موبائل فونز پر انکو ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔یاد رہے کہ اس سے پہلے اوورسیز پاکستانی ، وطن لوٹتے ہوئے بڑی تعداد میں موبائل فونز اپنے ساتھ لاتے تھے جو اب ممکن نہیں رہا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں