روس اور شام امریکی میزائل حملوں کے لیے تیار ہوجائے:ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ شام میں امریکی میزائل حملوں کے لیے تیار ہوجائے۔
سوشل میڈیا اکاﺅنٹ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ روس شام میں امریکا کے عمدہ، جدید اور اسمارٹ میزائل حملوں کے لیے تیار ہوجائے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بیان لبنان میں تعینات روسی سفیر کے اس انٹرویو کے بعد دیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر امریکا نے شام میں میزائل داغے تو ہم امریکی راکٹس کو مار گرائیں گے اور جہاں سے وہ میزائل داغے جائیں گے ان مقامات کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔روسی سفیر کے اس بیان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوری ردعمل ظاہر کیا اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انتباہی پیغام جاری کردیا۔
ٹرمپ نے لکھا کہ، ”روس کہتا ہے کہ وہ شام کی جانب فائر کیے گئے تمام میزائل کو مار گرائے گا۔ تو روس تیار ہوجائے، کیوں کہ وہ آرہے ہیں، عمدہ، جدید اورسمارٹ“۔
ٹرمپ نے یہ بھی لکھا کہ روس کو گیس حملہ کرنے والے شخص کا ساتھ نہیں دینا چاہیے تھا جو اپنے لوگوں کو قتل کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔
امریکی صدر نے اپنی ٹوئٹ میں یہ بھی لکھا کہ امریکا اور روس کے تعلقات تاریخ کی بدترین سطح پر آگئے ہیں جس میں سرد جنگ کا دور بھی شامل ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ”اس کشیدگی کی کوئی وجہ نہیں، روس کو اپنی معیشت بہتر بنانے کیلئے ہماری ضرورت ہے اور یہ کام بہت آسانی سے ہوسکتا ہے، ہمیں تمام ممالک کا تعاون چاہیے، ہتھیاروں کی دوڑ روکنی ہوگی“۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دھمکی آمیز پیغام پر روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروف نے کہا کہ سمارٹ میزائلز کو دہشت گردوں پر گرانا چاہیے شام کی قانونی حکومت پر نہیں جس نے اپنی سرزمین پر بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کئی سال صرف کیے۔
خیال رہے کہ گزشتہ دنوں یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ شام کی حکومتی فورسز نے باغی کے زیر اثر علاقے دوما میں مبینہ کیمیائی حملہ کیا ہے جس میں خواتین اور بچوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اس حملے کے بعد امریکا اور دیگر یورپی ممالک نے انتباہ جاری کیا تھا کہ وہ شامی حکومت اور اس کے اتحادی ملک روس کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتے ہیں۔شامی حکومت اور اس کے اتحادی ملک روس نے کیمیائی حملے کی رپورٹس کو مسترد کیا تھا کہا تھا کہ اسے جواز بناکر اگر کوئی کارروائی کی گئی تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔
خیال رہے کہ شامی فورسز نے روس کی معاونت سے 18 فروری 2018 سے باغیوں کے زیر اثر علاقے مشرقی غوطہ میں بمباری کا سلسلہ شروع کررکھا ہے اور اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک ان حملوں میں 1600 عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں