فیصلہ تب صحیح آئے گا جب قانون پردسترس ہوگی:ثاقب نثار

پشاور:چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ قانون کا علم نہ ہوتو صحیح فیصلہ نہیں کیے جا سکتے ،سب ججز کو قانون کے مطابق ہی فیصلے کرنے ہوں گے کیونکہ فیصلہ تب ہی صحیح آئے گا جب قانون پردسترس ہوگی۔

چیف جسٹس نے جوڈیشل اکیڈمی میں زیرتربیت سول ججوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی موجودگی کے بغیر ریاست کا وجود ممکن نہیں، دنیا کے آئین میں عدلیہ اہم ستون ہے۔ جج کے لیے قانون کا جاننا ضروری ہے اور سپریم کورٹ فیصلے کی آخری جگہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انصاف فراہم کرنا ججز کی ذمے داری ہے،ہم سب نے قانون کے مطابق فیصلے کرنے ہیں۔

ثاقب نثار نے کہا کہ ہر کسی کے بنیادی حقوق آئین میں موجود ہیں،سب سے زیادہ اہم چیز انصاف ہے۔ہمارے دین میں انصاف پرزوردیا گیا۔ان کا ہنا تھا کہ قاضی اورجج میں فرق ہوتا ہے ،جج کو تنازع کا حل قانون کے تحت نکالنا ہوتا ہے۔سائل کے حقوق کے بارے میں ہمیں آئین بتاتا ہے ۔قانون کا علم نہ ہوتو ہم صحیح فیصلہ نہیں کرسکتے،قانون کی مکمل معلومات ہوں توصحیح فیصلہ کیاجاسکتا ہے۔مجھے اورآپ کوقانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔فیصلہ تب ہی صحیح آئے گا جب قانون پردسترس ہوگی۔

انہوں نے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس وقت کم ہے ورنہ مزید باتیںکرتے کیونکہ وزیراعلیٰ کے پی نے ساڑھے 3بجے عدالت آنے کاکہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں