قومی شناختی کارڈ فیسوں میں اضافے کا فیصلہ چیلنج

پشاور۔وفاقی حکومت کی جانب سے قومی کمپیوٹرائزڈشناختی کارڈکی فیسوں میں اضافے کو پشاورہائی کورٹ میں چیلنج کردیاگیاہے رٹ پٹیشن سینئرقانون داں محمدخورشیدخان ایڈوکیٹ نے دائرکی ہے جس میں وفاقی سیکرٹری داخلہ اورڈائریکٹرجنرل نادراکوفریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیاگیاہے کہ وفاقی حکومت نے قومی شناختی کارڈکی فیسوں میں 100فیصد اضافہ کیاہے اوریہ اضافہ غیرآئینی اورغیرقانونی ہے کیونکہ دنیاکے باقی ممالک اپنے عوام کے لئے زندگی کی بنیادی سہولتوں کو ممکن طورپرآسان اورسستابنارہے ہیں جبکہ ہمارے ملک میں اس کے برعکس سلسلہ جاری ہے ۔

ماضی قریب میں پاکستانی کرنسی کے مقابلہ میں امریکی ڈالرمہنگاہونے سے مہنگائی کاسیلاب آرہا ہے جبکہ گرمی میں بجلی اورسردیوں میں قدرتی گیس نہ ہونابھی عوام پرایک عذاب ہے رٹ میں کہاگیاہے کہ ایک نوٹی فکیشن کے ذریعے کمپیوٹرائزڈشناختی کارڈ کی ارجنٹ فیس500سے بڑھاکر1150روپے اورسمارٹ کارڈ کی فیس300روپے سے بڑھاکر750روپے کردی گئی ہے۔

جبکہ 1500روپے میں بننے والاایگزیکٹوشناختی کارڈ اب2500روپے میں بنے گارٹ میں عدالت عالیہ سے استدعاکی گئی ہے کہ رٹ پٹیشن منظورکرکے شناختی کارڈ فیس میں اضافہ کالعدم قرار دے کرعوام کوریلیف دیا جائے پشاورہائی کورٹ کادورکنی بنچ آئندہ چند روز میں رٹ کی سماعت کرے گا۔

ک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں