نوازشریف کو سات سال قید ڈیڑھ ارب روپے اور ڈیڑھ کروڑ ڈالر جرمانے کی سزا

احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔العزیزیہ ریفرنس کیس کا فیصلہ 131 صفحات پر مشتمل ہے۔فیصلہ کے متن کے مطابق نواز شریف کرپشن اور بدعنوانی کے مرتکب پائے گئےہیں۔ نوز شریف کو سات سال قید بامشقت سنائی جاتی ہے،نواز شریف کو ڈیڑھ ارب روپے اور ڈیڑھ کروڑ ڈالر جرمانے کی سزا بھی سنائی جا رہی ہے۔
احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔تفصیلی فیصلہ 131 صفحات پر مشتمل ہے۔فیصلے میں تحریری طور پر کہا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کرپشن اور بد عنوانی میں ملوث ہیں۔تحریری فیصلے کے مطابق نیب پراسیکیوٹر نے نواز شریف کی کرپشن ثابت کر دی ہے۔کرپشن ثابت ہونے کے بعد ملزم نواز شریف کو 7 سال قید بامشقت کی سزا سنائی جاتی ہے ۔

اس کے علاوہ ملزم نواز شریف کو ڈیڑھ ارب روپے جرمانہ اور ڈیڑھ کروڑ ڈالر جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔تفصیلی فیصلے میں ہل میٹل کےتمام اثاثےبحق سرکارضبط کرنےکاحکم دیا گیا ہے جبکہ نوازشریف10سال عوامی عہدےکےلیےنااہل قرار قرار دئیے گئے ہیں۔دوسری جانب فلیگ شپ ریفرنس میں نوازشریف پرکوئی الزام ثابت نہیں ہواانہیں بری کیاجاتاہے۔عدالت نے تحریری فیصلے میں حکومت پاکستان کو حکم دیا ہے کہ نواز شریف کے اثاثے اپنی تحویل میں لے لیں۔اس کے علاوہ حسن نواز اور حسین نواز کو مفرور ملزم قرار دیا گیا ہے۔دوسری جانب نواز شریف کو گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے جہاں سے انہیں کوٹ لکھپت جیل لاہور منتقل کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں