پاکستان بھارت تعلقات: حنا کھر

جب تک پاک بھارت تنازعات حل نہیں ہوتے ترقی و خوشحالی کے فوائد خطے کے عوام تک نہیں پہنچیں گے اور کشیدگی کے واقعات ہوتے رہیں گے، بھارتی حکام کیساتھ سرکریک کے علاقے سے معدنیات اور دیگر اشیائ نکالے جانے کا معاملہ اٹھایا ہے انہوں نے اس سے انکار کیا ہے، سینٹ میں اظہار خیال

اسلام آباد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وزیرخارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر سمیت پاک بھارت تنازعات حلhina rabbani khar نہیں ہوتے ترقی اور خوشحالی کے فوائد خطے کے لوگوں تک نہیں پہنچیں گے اور کشیدگی کے واقعات ہوتے رہیں گے،بھارتی حکام کیساتھ سرکریک کے علاقے سے معدنیات اور دیگر اشیائ نکالے جانے کا معاملہ اٹھایا ہے تاہم انہوں نے اس سے انکار کیا ہے۔جمعرات کو سینٹ میں وقفہ سوالات کے دوران سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیرخارجہ نے  سینٹ کو بتایا کہ پاکستان بھارت کیساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے اپنے عزم پر قائم ہے اور چھوٹے موٹے واقعات پاکستان کو اس کے عزم سے نہیں ہٹاسکتےٴ  بھارتی حکام کیساتھ سرکریک کے علاقے سے معدنیات اور دیگر اشیا نکالے جانے کا معاملہ اٹھایا ہے تاہم انہوں نے اس سے انکار کیا ہےٴ جب تک کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور بھارت کیساتھ طے نہیں ہوجاتے دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی پیدا کرنے والے واقعات ہوتے رہیں گے ٴ پاکستان اور بھارت کے باہمی تنازعات نے سارک کے خطے کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔حنا ربانی کھر نے کہا کہ موجودہ حکومت پانچ سال کے دوران مسلسل بھارت کیساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے کوشاں رہی ہے اور پاکستان اپنے اس عزم پر قائم ہے کہ بھارت کیساتھ تعلقات کو بہتر بنایا جائے بھارت کو بھی پاکستان کا اعتماد بحال کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ چھوٹے موٹے واقعات پاکستان کو اس کے عزم سے نہیں ہلاسکتے۔ ایک سوال کے جواب میں حنا ربانی کھر نے کہا کہ انہوں نے بھارت کی جانب سے سرکریک کے علاقے سے معدنیاتٴ گیس اور تیل کی تلاش سے متعلقہ سرگرمیوں کے بارے میں پوچھا ہے تاہم بھارتی حکام نے کسی ایسی سرگرمی سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جب تک پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر سمیت تمام تنازعات حل نہیں ہوجاتے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھانے کیلئے چھوٹے موٹے واقعات ہوتے رہیں گے۔ گذشتہ دنوں  لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ کی وجہ سے چار پاکستانی شہید ہوگئے تھے تاہم بھارتی حکام نے دو بھارتی فوجیوں کی مبینہ ہلاکتوں کو بہت اٹھایا اور پاکستان کیخلاف بھارتی عوام میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کیلئے پراپیگنڈا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سابقہ حکومت اور بھارت میں کانگریس کی حکومت کے درمیان سیاچن کے مسئلے کے حل کیلئے کئی سال پہلے معاہدہ ہوگیا تھا لیکن تاحال اس پر پیشرفت نہیں ہوسکی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کی باہمی دشمنی نے پورے سارک کے خطے کو یرغمال بنا رکھا ہے اور جب تک دونوں ممالک کے مابین تنازعات حل نہیں ہوتے ترقی اور خوشحالی کے فوائد خطے کے لوگوں تک نہیں پہنچیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں