ایبٹ آباد کی تباہی اور بارش کے بعد لوگوں کے اربوں روپے کے نقصان کے ذمہ دار کینٹ بورڈ این ایچ اے ضلعی انتظامیہ ہیں: ایبٹ آباد ایکشن کمیٹی

ایبٹ آباد: ایبٹ آباد ایکشن کمیٹی نے اداروں کے گھیراو کا اعلان کر دیا ادارے جاگیں ورنہ عوام جگائے گی
ایبٹ آباد کی تباہی اور بارش کے بعد لوگوں کے اربوں روپے کے نقصان کے ذمہ دار کینٹ بورڈ این ایچ اے ضلعی انتظامیہ ہیں، پیسے لیکر سارے نالے فروخت کر دیئے گئے ادارے اپنا قبلہ درست کر لیں اگر عوام جاگ گئ تو آپکو سونے کا وقت نہیں ملے گا ایوب میڈیکل کمپلیکس میں اربوں روپے ڈکار لیئے گئے مگر ان سے چھت ٹھیک نا ہو سکا نیب کمپلیکس کا احتساب کرے
عوامی نمائندے کینٹ بورڈ سے جواب طلبی کریں ورنہ عوام جب جواب طلبی کرے گی تو کینٹ بورڈ، ڈی سی آفس، این ایچ اے، ایوب ہاسپٹل کمپلیکس واسا ٹی ایم اے واپڈا کے دفاتر کے باہر مجمے لگائیں گے، ادراروں کا یہ عالم ہے جب تک روڈ بند نا ہو کام نہیں کرتے ان خیالات کا اظہار سابق امیدوار این اے پندرہ اور ایبٹ آباد ایکشن کمیٹی کے کنوینئیر ایم ایم راشد اعوان نے ایبٹ آباد پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر مختلف تنظیمات کے ذمہ داران جن میں سردار آفتاب،ملک محمود اعوان،سہیل خان جدون،وقاص مغل،وسیم عباسی ، احسن خان جدون، سردار اورنگزیب، معین قریشی ایڈوکیٹ و دیگر سماجی کارکنان کی بڑی تعداد شامل ہے موجود تھے
ایم ایم راشد اعوان نے مزید کہا کہ ایک شب بارش نے ایبٹ آباد کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا ایک وقت تھا ہفتوں بارش کا بھی پانی شہر میں نظر نہیں آتا تھا آج گھنٹہ بارش بھی تباہی مچا دیتی ہے اداروں نے شہر کے نالے فروخت کر ڈالے ہیں ہم اور سب سے زیادہ کینٹ بورڈ ایبٹ آباد اس کرپشن اور تباہی کا ذمہ دار ہے ہم نہیں چاہتے کہ عوام کے ذہنوں میں یہ بات آئے کہ وردی کی چھتری میں یہ ادارہ کرپشن میں لتھڑا ہوا ہے بحثیت ادارہ کسی گھر میں ایک اینٹ لگنے کا بھی کینٹ بورڈ اہلکاروں کو پتہ چل جاتا ہے مگر نالوں کی چوڑائ پچہتر فٹ اور پینسٹھ فٹ سے پانچ فٹ تک کیسے پہنچی انکو پتہ نہیں چلا انیس سو سات کے نقشے میں نالوں کی چوڑائ کے مطابق نالوں کو کھولا جائے اسٹیشن کمانڈر اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں کینٹ بورڈ کے پاس سویمنگ پول، کلب، دفاتر کی تزہین اور اللے تللوں کیلیئے پیسے ہیں نالوں کیلیئے کوئ پیسہ پائ نہیں، شہر کا ستر فیصد کا خون کینٹ بورڈ چوستا ہے مگر نالوں کی صفائ کیلیئے مانگے تانگے اور جگاڑ سے کام چلا رہے ہیں شاہراہ ریشم پر سپلائ تک دیواریں گرا دو دیواریں بنا دو کا کھیل چل رہا ہےٹیکس کلیکشن کہا جا رہی ہے کسی کو نہیں پتہ،امپائر روڈ پر بندہ پیدل چل نہیں سکتا فٹ پاتھ تو دور کی بات روڈ بھی ظالموں نے بیچ ڈالا
صوبائ حکومت بتائے این ڈی ایم کس مرض کی دوا ہے،کمشنر ہزارہ کو ناران میں تجاوزات نظر آتی ہیں مگر چراغ تلے اندھیرے کے مصداق سپلائ سے منڈیاں تک انکو تجاوزات نظر نہیں آرہی انتظامیہ کوشٹر کس نے کھولا تو نظر آتا ہے مگر عوام ڈوب رہی تھی نظر نہیں آیا ہم نے شکر کیا ڈی سی مغیث ثناء اللہ سے جان چھوٹی اب آپ ڈی سی صاحب ان موصوف کے نقش قدم پہ نا چلیں، واسا، ٹی ایم اے کمپلیکس سب کی کارکردگی سوشل میڈیا تک محدود ہے این ایچ کی چور بازاری کا یہ عالم ہے جو کام پہلے کرنا تھا اب کر رہے ہیں سڑک بنا کر اب نالوں کی کھدائ شروع کر دی ہے کون کیا کر ریا ہے کوئ پوچھنے والا نہیں این ایچ اے کے احتساب کا وقت بھی ہوا چاہتا ہے واپڈا کا حال یہ ہیکہ انکو مرمتی کا کام گرمیوں میں یاد آتا ہے پچھلے دو ہفتوں سے عوام کو خوار کیا جا رہا ہے سو فیصد ریکوری والے ضلع میں مینٹینینس کے نام پر لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا رکھا گیا ہے اور دس دس گھنٹے بجلی بندکرکے عوام کیساتھ مذاق جاری ہے
ایوب میڈیکل کمپلیکس میں اربوں روپے ڈکار لیئے گئے ہیں نمائندے اپنے چار بندے بھرتی کروا کر شتر مرغ کیطرح سر ریت میں چھپا لیتے ہیں نمائندے انتظامیہ کی خوشامد کی بجائے جواب طلبی کا حوصلہ پیدا کریں بارش میں بیڈ تیر رہے تھے پچھلے پندرہ بیس سالوں سے کمپلیکس کی چھتیں بارش میں لیک کرتی ہیں مگر انتظامیہ اپنے کمیشن کی خاطر غیر ضروری ڈربے بنا کر ہسپتال کا حلیہ تباہ کر چکی ہے اربوں روپے کا آڈٹ نیب کرے اور مکمل احتساب کیا جائے
موبائل فون کمپنیز کی حالت خراب ہے بجلی چلی جائے تو اپنا ایندھن بچانے کیلیئے پورے شہر کو ایک ٹاور پر چلایا جاتا ہے موبائل فون کمپنیز کو ہوچھنے والا کوئ نہیں پریس کانفرنس کے شرکاء نے مزید کہا کہ اگر ادارے جاگے نہیں تو ہم انہیں جگانے کیلیئے ہر حد تک جائیں گے کیونکہ ایبٹ آباد شہر کے تمام نشیبی علاقوں میں ہر گھر میں لاکھوں کا نقصان ہو چکا ہے اور عوام کا صبر اب جواب دے چکا ہے اس چنگاری کو بڑھکایا نا جائے بلکہ ہوش کے ناخن لیئے جائیں

Abbottabad Action Committee

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں