ایبٹ آباد: گھر ایسا نہیں ہوتا!

ژرف نگاہ ۔۔۔ شبیرحسین امام

خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں پر مشتمل ’ہزارہ ڈویژن‘ کا صدر مقام ’ایبٹ آباد‘ سطح سمندر سے 4 ہزار 120فٹ بلند ہے اُور اِس قدر بلندی کی وجہ سے اطراف کی پہاڑیوں (دیہات) اُور ایبٹ آباد کے میدانی (شہری) علاقوں سے بارش کا پانی برساتی نالوں کے راستے بہہ جاتا ہے لیکن گیارہ اُور بارہ جولائی کی درمیانی شب بارش نے ایبٹ آباد شہر میں جل تھل کو ایک کر دیا اُور صرف نشیبی ہی نہیں بلکہ قدرے اونچائی پر رہائشی علاقے بھی چار سے چھ فٹ پانی میں ڈوب گئے۔ مذکورہ بارش سے اِیبٹ آباد کے کئی ایک رہائشی اُور تجارتی علاقے متاثر ہوئے جن میں بجلی و پانی کی فراہمی اُور سرکاری علاج گاہوں جیسی اہم تنصیبات و دفاتر شامل تھے اُور تین دن گزرنے کے باوجود بھی متاثرہ علاقوں کے مرکزی بازار (منڈیاں سے سپلائی) اُور ملحقہ علاقے جناح آباد (بالائی و زیریں)‘ حبیب اللہ کالونی‘ میرا میرپور‘ کاغان کالونی‘ بلال ٹاؤن‘ شاہ زمان ٹاؤن‘ حسن ٹاؤن‘ کاکول (پاکستان ملٹری اکیڈمی المعروف پی ایم اے)‘ نڑیاں اُور یونین کونسل نواں شہر کے کچھ حصوں میں معمولات ِزندگی بحال نہیں ہو سکے‘ جہاں ہر طرف گندگی‘ غلاظت اُور کوڑا کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں۔ مون سون بارشوں کے آغاز پر چند گھنٹوں میں مجموعی طور پر 180 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ بارش کا سلسلہ جو سلسلہ گیارہ جولائی سے شروع ہوا وہ چودہ جولائی تک جاری رہا اُور محکمہ¿ موسمیات کی پیشگوئی کے مطابق عیدالاضحی (21 جولائی) کے موقع پر بھی بارشیں جاری رہیں گی‘ جو طوفانی ہو سکتی ہیں۔
ایبٹ آباد میں برسات کی بارش سے سینکڑوں کی تعداد میں مکانات متاثر ہوئے لیکن سب سے زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اِس مرتبہ بارش نے اُن علاقوں میں زیادہ تباہی پھیلائی جن کا شمار ایبٹ آباد کے جدید اُور مہنگے ترین (پوش) علاقوں میں ہوتا ہے۔ حال ہی میں ’پی ایم اے (بائی پاس) لنک روڈ‘ تعمیر کیا گیا جس بارش سے شدید نقصان پہنچا۔ شاہراہ¿ قراقرم کے بعد ’لنک روڈ‘ ایبٹ آباد کی دوسرا انتہائی اہم رابطہ شاہراہ ہے جو جناح آباد سے شروع ہو کر حسن ٹاو¿ن پر اختتام پذیر ہوتی ہے اُور اِس لنک روڈ کے ساتھ حسن ٹاؤن کا برساتی نالہ بہتا ہے جہاں طغیانی کے باعث چار سے چھ فٹ بلند لہریں اُٹھیں اُور وہ اپنے ساتھ ’لنک روڈ‘ کے کئی حصے بہا لے گی اُور دس فٹ سے زائد بلند ’پی ایم اے‘ کی حفاظتی باڑ بھی پانی کے بہاؤ کے سامنے نہ ٹھہر سکی! ایبٹ آباد کی تاریخ میں بارش کا پانی کبھی بھی ’پی ایم اے روڈ‘ اُور اِس سے ملحقہ بستیوں کے باسیوں کے لئے اِس قدر پریشانی کا باعث نہیں بنا اُور یہی وجہ تھی کہ 14 جولائی کے روز ’پی ایم اے روڈ‘ بلال ٹاو¿ن اُور شاہ زمان ٹاو¿ن کے رہائشیوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ’پی ایم اے روڈ‘ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند رکھا اُور عوام کا غیض و غضب دیکھ کر ’پی ایم اے‘ کی حفاظت کرنے والے دستے بھی دور سے کھڑے تماشا دیکھتے رہے جو عمومی صورت میں ’پی ایم اے روڈ‘ پر حکمراں رہتے ہیں اُور کسی کی مجال نہیں ہو سکتی کہ اِن کی اجازت کے بغیر سڑک بھی پار کر سکے۔ پی ایم اے روڈ کے اطراف میں رہنے والوں کو شکایت ہے کہ ’پی ایم اے‘ کی توسیع و تعمیرات میں برساتی پانی کے راستوں کو تنگ کیا گیا‘ لنک روڈ بچھا کر پانی کے قدرتی بہاؤ کا راستہ روکا گیا اُور حسن ٹاؤن سے گزرنے والے برساتی نالے میں پی ایم اے کے ذیلی دفاتر (اِی اینڈ ایم انجنیئرنگ ورکشاپ) کی تعمیر کا ملبہ گرایا گیا جبکہ نالے کے پشتے صرف ایک طرف بلند اُور تعمیر کئے گئے جس کی وجہ سے بارش کے ”منہ زور پانی“ کا بہاؤ حسن ٹاؤن‘ شاہ زمان ٹاؤن‘ بلال ٹاؤن اُور پی ایم اے روڈ پر رہنے والوں کی رہائشگاہوں کی طرف ہو چکا ہے اُور صرف بارہ جولائی کی شب تین بجے سے آئی طغیانی ہی نہیں بلکہ مستقبل میں بھی اہل علاقہ کو سیلابی ریلوں سے خطرہ ہے۔
ایبٹ آباد سے منتخب ہونے والے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی متحرک ہیں۔ 13 جولائی کے روز قومی اسمبلی اجلاس میں ایبٹ آباد ٹو کے انتخابی حلقے سے تحریک انصاف کے نامزد و کامیاب رکن قومی اسمبلی علی خان جدون جبکہ دوسری طرف صوبائی اسمبلی کے اراکین نے وزیر اعلیٰ محمود خان سے ملاقات میں ایبٹ آباد کی صورتحال سے وفاقی و صوبائی حکومت کے فیصلہ سازوں کو آگاہ کیا اُور عوام ہوں یا خواص‘ منتخب ہوں یا غیر منتخب عوامی و سماجی نمائندے‘ ہر ایک کا اتفاق صرف ایک نکتے پر ہے کہ ایبٹ آباد کے برساتی نالوں پر قائم تجاوزات ختم ہونی چاہیئں۔ برساتی نالوں میں جمع شدہ کوڑا کرکٹ‘ تعمیراتی ملبے اُور خودرو پودوں کی صفائی ہونی چاہئے۔ برساتی نالوں سے گزرنے والے گیس اُور پانی کی فراہمی کے پائپ لائنوں کو الگ کیا جائے اُور برساتی نالوں کی گہرائی و چوڑائی میں اضافہ کرتے ہوئے اُن سبھی تجاوزات کو ختم کیا جائے جو نالے پر قائم کی گئیں ہیں۔ ذہن نشین رہے کہ جن تجاوزات کی مذمت میں آوازیں اُٹھ رہی ہیں‘ اُن کی اکثریت کے لئے ذمہ دار وہی سیاسی و سماجی شخصیات ہیں‘ جو اِن تجاوزات کے حق میں بیانات دے رہی ہیں۔ عام آدمی (ہم عوام) کے نکتہ¿ نظر سے سیاسی و سماجی‘ منتخب و غیرمنتخب فیصلہ سازوں کی زبانی کلامی جن تجاوزات کی مذمت کر رہے ہیں اُور جن تجاوزات کو ختم کرنے کا حکم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے بھی دیا ہے‘ لیکن اِس پر چند روزہ بیان بازی سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا اُور اِنہی چند روزہ ہلا گلا کے بعد آسمان صاف ہوتے ہی معمولات جوں کے توں برقرار رہیں گے۔ یہ معمولات کیا ہیں۔ 1: برساتی نالوں سے حسب ِ سابق نکاسی آب اُور کوڑا کرکٹ تلف کرنے کے لئے استفادہ کیا جائے گا۔ 2: برساتی نالوں پر تجاوزات جوں کی توں برقرار رہیں گی کیونکہ اِن پر سرکاری و نجی بااثر اداروں کا قبضہ ہے اُور 3: ضلعی انتظامیہ (کمشنر کی سربراہی و میزبانی) میں ائرکنڈیشن کمروں میں ’میٹھی و نمکین لوازمات سے تواضع‘ کے ساتھ حکومتی محکموں کے ذمہ داروں کے اجلاس ہوں گے جیسا کہ ماضی میں ایسے کئی اجلاس ہو چکے ہیں اُور ہر اجلاس میں تجاوزات کے خلاف کاروائی کرنے کے اتفاق رائے (فیصلے) کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاتا کیونکہ برساتی نالوں پر تجاوزات کی اکثریت کا تعلق خواص سے ہے۔ ایبٹ آباد میں سالانہ قریب سولہ سو ملی میٹر ہوتی ہے اُور ایسی ہر بارش کا پانی طغیانی (جانی و مالی نقصان) کا باعث نہ بنے‘ اِس کے لئے موسمیاتی پیشگوئی سے زیادہ ایبٹ آباد کے لئے نکاسی آب کا نظام ”از سر نو“ وضع کرنے کی ضرورت ہے تو کیا ہمارے سیاسی و غیرسیاسی فیصلہ ساز ’ایبٹ آباد (عوام) کے وسیع تر مفاد میں ذاتی و انفرادی مفادات کی قربانی دینے کے لئے تیار (آمادہ) ہیں؟ ”محبت اُور قربانی میں ہی تعمیر مضمر ہے …. در و دیوار سے بن جائے گھر ایسا نہیں ہوتا (عنبرین حسیب عنبر)۔“
….

Abbottabad Column By Shabir Hussain Imam

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں