قومی ہیرو اہیر مارشل اصغر خان مرحوم کی تیسری برسی آج منائی جاے گی

1921ء میں کشمیر میں پیدا ہونے والے اصغر خان رائل انڈین ملٹری کالج سے پڑھنے کے بعد دسمبر 1940ء میں انڈین ائیر فورس میں بھرتی ہوئے، 1945ء میں اصغر خان برطانیہ بھیجے گئے جہاں انہوں نے رائل ائیر فورس اسٹاف کالج، جوائنٹ سروس ڈیفنس کالج اور امپیریئل ڈیفنس کالج سے ملٹری ایڈمنسٹریشن اور جوائنٹ سروسز میں تعلیم حاصل کی۔ وہ اُس کمیٹی میں شامل رہے جس نے دفاعی اثاثہ جات دو نومولود مملکتوں یعنی پاکستان اور بھارت میں تقسیم کرنے تھے۔1947ء میں پاکستان بننے کے بعد اصغر خان ونگ کمانڈر بنائے گئے اور وہ پشاور کے نزدیک رسالپور میں بنائی گئی پاکستان ایئر فورس اکیڈمی کے پہلے کمانڈنٹ تھے۔ جولائی 1957 کو صرف 36سال کی عمر میں پہلے پاکستانی اور مسلمان سربراہ کے طور پر پاک فضائیہ کے کمانڈر انچیف کا عہدہ سنبھالا۔ 1947ء سے 1965ء میں اپنی ریٹائرمنٹ تک 18 سالوں میں اصغر خان نے پاکستان ایئر فورس کو ایک ایسا باوقار ادارہ بنایا جس کے معترف اپنے اور بیگانے سب ہیں.
ان کی تیار کردہ ائر فورس نے 65کی جنگ میں بھارت کو دھول چٹائی. ریٹائر ہونے کے بعد اصغرخان نے پی آئی اے کی کمان سنبھالی اور مختصر عرصے میں اسے دنیا کی بہترین ائرلائن کمپنیوں کی صف میں کھڑا کر دیا. پی آئی اے کا وہ دور گولڈن ایج کہلاتا ہے.
بطور منتظم انہوں نے پاکستان ایئر فورس اور پی آئی اے کو لاجواب اداروں میں بدل دیا یہ تمغہ تادیر دمکتارہے گا۔
بعد ازاں انھوں نے عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور تحریک استقلال کے نام سے اپنی سیاسی جماعت قائم کی۔ ان کی یہ جماعت پاکستانی سیاست میں سکول کا درجہ رکھتی ہے جس سے بڑے سیاسی نام نکلے جن میں میاں نواز شریف، شیخ رشید، جاوید ہاشمی، خورشیدِ قصوری، اکبر بگٹی، عابدہ حسین، فخر امام جیسے کئی نام شامل ہیں۔ 70کی دہائی میں سیاسی عروج پانے اور بھٹو مخالف رہنما کے طور پر عوامی پذیرائی پانے والے اصغر خان ضیاء مارشل لاء میں پانچ سال تک نظر بند رہے. سیاسی میدان میں بھی ان کی اصول پسندی، دیانت اور شرافت کے حوالے سے جانا جاتا ہے. ہر چند کہ ائیر مارشل اصغر خان سراپا فوجی تھے وہیں وہ واحد سیاستدان تھے جس نے چار فوجی جرنیلوں یعنی ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف جدوجہد کی۔ائیر مارشل محمد اصغر خان کئی کتابوں کے مصنف بھی ہیں جن میں دی فرسٹ راونڈ، پاکستان ایٹ دی کراس روڈ، جنرلز ان پولیٹکس، دی لائٹر سایئڈ آف پاور گیمز، وی ہیو لرنٹ نتھنگ فرام ہسٹری، مائی پولیٹیکل اسٹرگل اور مائیل اسٹونز ان اے پولیٹیکل جرنی کے نام سرفہرست ہیں ۔ ان میں سے بعض کتابوں کے اردو ترجمے بھی ہوچکے ہیں. اصغر خان 97برس کی عمر میں 5 جنوری 2018کو اسلام آباد میں انتقال کر گئے انہیں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ نواں شہر ایبٹ آباد ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں