ڈاکٹرعلامہ محمد اقبال تاریخ کے آئینے میں

تحریر و تحقیق
سید صفدر رضا

9نومبر 1877کو شیخ نور محمد کے گھر ایک بچے کی پیدائش ہوتی ہےشیخ نور محمدکشمیر سے تعلق رکھتے تھے اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں آپکے بزرگوار نے اسلام قبول کیا۔اپ 18ویں صدی کے آخر میں کشمیر سے سیالکوٹ منتقل ہوئےشیخ نور محمد کے والد شیخ محمد رفیق محلہ کھٹیکاں میں رہائش اختیار کی آپ دھوسے اور لوئیوں کا کاروبار کرتے تھے۔ بچے کی پیدائش جس کو شیخ نور محمد اپنے دیکھے ہوئے خواب کی تعبیر سے منسوب فرماتے ہیں۔شیخ نور محمد خواب میں دیکھتے ہیں کہ فضا میں ایک سفید کبوتر مسلسل چکر لگا رہا ہے کبھی نیچے آتا ہے تو لگتا ہے اب زمین پر بیٹھ جائے گا کبھی انتہائی بلند ہو جاتا ہے۔جب نیچے آتا ہے تو لوگ اسے دبوچنے کے لیئے بھاگتے ہیں اس کو حاصل کرنے کی لوگوں کی کوششیں رائیگاں جاتی ہیں اچانک کبوتر غوطہ لگا کر شیخ نور محمد کی جھولی میں اگرتا ہے۔ شیخ نور محمد اس خواب کی تعبیر اس بچے کو عطیہ خداوندی گردانتے ہیں اور مقدر کا دھنی جانتے ہوئےاس بچے کو نہایت اہم جانتے ہوئے اس بچے کی ابتدائی تعلیم و تربیت کا آغاز و اہتمام خاص توجہ سے سیالکوٹ میں ہی کیا گیا۔شیخ نور محمد دیندار ہونے کے باعث اپنے اس بچے کو رسم بسم اللہ کے لیئے مولانا غلام حسن کے پاس لےگئےمحترم شوالہ مسجد میں درس فرمایا کرتے تھے جہاں بچے کی تعلیم کا آغاز ہوا ایک دن محترم استاد میر حسن کی نظر بچے پر پڑی بچہ انتہائی غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک نظر آیا تو مولانا نے شیخ نور محمد کو سمجھایا کہ بچے کو صرف دینی تعلیم تک محدود نہ رکھو بلکہ جدید تعلیم سے بھی آراستہ کرواناجس پر شیخ نور محمد نے اپنے لخت جگر کو موصوف کی تربیت میں سونپ دیا ۔تب ان کے استاد میر حسن نے آپکی تعلیم و تربیت میں خاصی دلچسپی لی۔اپ نے عربی،فارسی کی زبانوں کو سیکھنے کا حکم دیا جسکے اثرنے آپکے کلام پر گہرے اثرات مرتب کیئے۔ آپ اپنے اساتذہ کا خوب احترام فرمایا کرتے تھے اس بات کا اندازہ اس واقعے سے لگا سکتے ہیں کہ جب اپکوبرطانوی گورنر اور ولی عہد کی تجویز پر آپکی ادبی صلاحیتوں کے اعتراف میں اعزاز سے نوازنے کے بارے میں آپ سے رائے طلب کی گئی تو آپ نے فوراً اپنی خواہش کا اظہار فرمایا کہ جناب محترم میر حسن کو بھی اہم لقب سے نوازا جائے گورنر نے کہا کہ انکی کوئی کتابی کاوش تو نہ ہے آپ نے فرمایا کہ جناب میر حسن کی عملی کتاب اقبال ہے جس کو جناب میر حسن نے ترتیب دیا ہے۔پھر جناب میر حسن کو ” شمس العلماء” کے خطاب سے نوازا گیا۔ 1895 میں خان بہادر عطا محمد خان جو معالج تھےکی بیٹی کریم بی بی سے آپکی شادی ہوئی اسوقت آپکی عمر 18 سال تھی۔ ان سے آپکی ایک بیٹی معراج بیگم اور ایک بیٹا آفتاب اقبال تھے جو بڑے ہو کر بیرسٹر ہوئے۔ 1901 میں ایک اور بیٹے کی بھی پیدائش بتائی جاتی ہے۔اور بعد میں بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں اقبال اور کریم بی بی میں علیحدگی ہو گئی تھی۔ بعد ازاں کالجوں اور درسگاہوں کے شہر لاہور 1895میں تعلیم وتدریس کا سلسلہ گورنمنٹ کالج میں جاری رہا۔جہاں بی اے کرنے کے بعد1898 میں قانون کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد 1899میں فلسفے میں ماسٹرز کیالاہور ان دنوں ادبی محافل کا مرکز جانا جاتا تھااور شاعری جو آپکی جبلت میں شامل تھی اسکو پروان چڑھنے کا موقع ملا۔ اپنے کلام کے اظہار و آشکار کرنے کے لیئےایک فلاحی تنظیم کے سالانہ اجلاسوں میں شرکت کرکے اپنا کلام پیش کرنے کا موقع ملا۔1901میں اسوقت کے مشہور و معروف ادبی رسالہ مخزن میں اپکے کلام کو چھپنے کا موقع میسر ایا پھر اعلی تعلیم کی غرض سے 1905میں کیمرج کے لیئے رخت سفر باندھا۔کیمرج کا انتخاب اس لیئے کیا کہ اسے نہ صرف یورپی فلسفے بلکے عربی و فارسی کے مطالعے کو اہم مقام حاصل تھا1907 میں جب بنگال میں آل انڈیا مسلم لیگ اپنے ابتدائی مراحل میں داخل ہو رہی تھی آپ تقریبا 30 سال کی عمر میں اپنا بے مثل فارسی کا مقالہ پیش فرماتے ہیں1908 میں قانون کی ڈگری لنکن ان سے پانے کے بعدمیونخ کی مشہور یونیورسٹی سے PHD (ڈاکٹریٹ)کر کے واپسی کا سفر کیا۔ 1908 میں جبکہ آپ ہندوستانی امت مسلماں کے دکھ درد سے واقف بھی تھے اور انگلینڈ میں آل انڈیا مسلم لیگ کے برطانوی ایگزیکٹو کونسل کےممبر چنے گئیےواپسی پر جہاں وہ کالج کی تعلیم حاصل کرتے رہے۔1908 میں اپنی عملی زندگی کا آغاز فرمایا فلسفہ پڑھایا اور1911 میں ملازمت سے مستعفی ہو گئے۔1911 میں ہی مسلمان قائدین جو متحدہ ہندوستان کے داعی تھے اور انگریز سرکار کے وفادار تھے لیکن1912 کے دوران اس نہج پر چلے گئے کہ اچانک کروٹ بدل لی مسلم سیاستدان تقسیم بنگال کے حق میں آواز اٹھا رہے تھے جبکہ انگریز سرکار بھی اس تقسیم کے حق میں تھی مگر اس کے برعکس ہندو رہنما اس کی سخت مخالفت کر رہے تھے انگریز سرکار نے تقسیم بنگال منسوخ کر دی اس عمل نے مسلم قائدین کی آنکھیں کھول دیں تقسیم بنگال کی تنسیخ نے مسلم قیادت کو ہلا کے رکھ دیا جس کے نتیجے میں لاہور موچی دروازے پر فروری 1912 کو احتجاجی جلسہ منعقد ہوا جس سے آپ نے خطاب کرکے خواب غفلت سے مسلمانان بر صغیر کو بیدار کیا اور فرمایا مسلمانوں کو اپنی تعمیر وترقی کے لیئے خود ہاتھ پاؤں مارنے ہونگےاس دن کے خطاب نے مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس دوران آپ نے کئی سال تک وکالت کی پریکٹس کی۔ اسی اثنا میں اپنی شاعری کو جاری رکھا. 1914 میں آپکی دوسری شادی مختار بیگم سے ہوئی۔اپکی والدہ گرامی محترمہ امام بی بی کا اسی سال انتقال ہواتھا۔ 1914 میں جنگ عظیم شروع ہو چکی تھی انگریز سرکار کا رویہ سخت ہو گیا تھا جس کے باعٹ حکومت مخالف تحاریک زور پکڑ چکی تھیں۔1915 فارسی کلام “اسرار خودی” سامنے ایا1918 میں ” رموز بیخودی “متعارف کروایا۔ اپریل 1919 میں جلیاں والا باغ میں جنرل ڈائر کے حکم پر فائرنگ کر کے کئی افراد کو موت کی نیند سلادیا تھا۔اپ نے اس زمانے میں گوشہ نشینی اختیار کر رکھی تھی۔لیکن اس ظلم پر آپ خاموش نہ رہ سکے اس دل دہلا دینے والے واقعے میں مرنیوالوں کی ہمدردی میں اشعار سے خراج تحسین پیش کیا.اپریل 1922میں حمایت اسلام کے سالانہ اجلاس میں اپنی مشہور نظم” خضر راہ” سے لوگوں کے لہو کو گرمایاغرض اس میں سرمایہ داری،شیطانی سیاست،مزدور کی بیداری نسلی قومیت اور رنگ و خون کو جھنجھوڑا گیا ہے۔1923 کے اوائل میں آپ کو سر کے خطاب سے نوازا گیا لیکن آپ نے حق گوئی کو ترک نہ فرمایا۔مارچ 1923 میں انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں آپ نے اپنا مشہور ومعروف کلام “طلوع اسلام” پڑھ کر مسلمانوں کو ان کے تابناک مستقبل کی نوید سنا دی۔تحریک خلافت نے مسلم جذبات کو ابھارا ادھر پنجاب میں مسلمانوں کے درمیان دیہی و شہری تعصب کے باعث یونینیسٹ پارٹی معرض وجود میں ائی۔اسی دوران صوبائی انتخابات کے موقع پر آپ کو لیجسلیٹو کونسل کا انتخاب لڑنے کی درخواست کو آپ نے رد کر دیا”1923 میں”پیام مشرق”کے نام سے مجموعہ کلام پیش کیا۔1924 میں اقبال اور مختار بیگم کے ہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی ۔نو مولود کی ولادت کے فوراً بعد زچہ بچہ دونوں کا انتقال ہو گیا۔ آپکی تیسری شادی محترمہ سردار بیگم سے ہوئی۔جن کے بیٹے جاوید اقبال اور ایک بیٹی منیرا بانو ہیں جاوید اقبال بعد میں جج بنے۔ 1924 میں “بانگ درا”سے لوگوں کو آگاہی دی۔1926میں لیجسلیٹو کونسل کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی آپ یونینسٹ پارٹی میں شامل ہوئےجو اچھا تجربہ نہ رہا علیحدگی اختیار کر لی بعد ازاں مسلم لیگ کے صوبائی سیکرٹری بنے۔ “1927 میں”زبور عجم” تصنیف فرمائی۔ مسجد اقصیٰ پر یہودیوں کے ناپاک قبضے کے خلاف احتجاجی جلسے منعقد ہوئے۔ستمبر 1929 کو آپکی زیر صدارت جلسہ منعقد ہوا۔جس میی فرمایا یہ بات قطعاً غلط ہےکہ مسلمانوں کا ضمیر حب ا لوطنی سے خالی ہے البتہ یہ صحیح ہے کہ حب الوطنی دین کا جذبہ اور اسلام کی محبت بھی بدرجہ اتم موجود ہے”1930 میں آپکے والد اس جہان فانی سے رخصت ہوئےاور آپ کو والد کی وفات پر داغ مفارقت سہنا پڑا۔ 1930 میں ہی خطبہ الہ آباد میں اپنے شمالی حصہ پر مشتمل خطے پر مسلمانوں کے لیئے الگ ریاست کا تصور پیش فرمایا قائد اعظم ان دنوں گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیئے لندن گئے ہوئے تھے۔اپکا یہ خطاب خطبہ الہ باد کے نام سے مشہور ہے۔جس میں ایک آزاد مسلم ریاست کا تصور پیش کیا گیا۔ستمبر 1931 کو لاہور سے دہلی کے لیئے روانہ ہوئے جہاں بڑی تعداد میں آپکا استقبال کیا گیا وہاں سے آپ لندن دوسری گول میز کانفرنس کے لیئے لندن روانہ ہوئے1931 میں آپ مسلمانان ہند کے لیئے انتہائی مضطرب نظر آتے ہیں اور بھرپور نمائندگی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔اپکی علمی وادبی پہچان سیاسی پہچان سے زیادہ تھی کانفرنس کے ابتدائی مراحل میں کچھ ایسے اقدامات ہوئے کہ آپ بیزار ہوگئےمٹبت نتائج کی امید دم توڑ گئی۔اپ اپنے وفد سمیت الگ ہو گئے۔ال انڈیا مسلم لیگ کا مارچ 1932میں منعقد شدہ اجلاس کی صدارتی خطاب میں دوسری گول میز کانفرنس کا ماجرا بیان کیا سیاسی ماحول وامکانات پر پر مغز گفتگو فرمائی۔تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کی غرض سے اکتوبر 1932میں انگلینڈ گئے مگر نجانے کانفرنس میں کیوں دلچسپی نہ لی۔ 1932 میں آپکی سیاسی دلچسپی عروج پر دکھائی دیتی ہے شاعری میں آپ کا پیغام خودی کا فلسفہ اور جدید صوفی رنگ آپ ہی کی شاعری کا خاصہ ہے کہیں آپ خدا سے شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں تو خود اس کا جواب دیتے نظر آتے ہیں آپکی شاعری اور آپکا انداز بیاں کسی مجذوب صوفی کی بجائے ایک پاک دامن صوفی کی جھلک پیش کرتا ہے 1932میں”جاوید نامہ”تصنیف فرمائی۔مارچ 1934 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔اپ نے اپنی کاوشوں سے مسلم لیگ کو منظم و مستحکم کیا اور مسلمانان بر صغیر کو خواب غفلت سے ایک بار پھر بیدار کیا۔ 1936 میں” بال جبرائیل” سامنے آئی اور اسی سال آپ کی قائد اعظم سے جاوید منزل میں ملاقات ہوئی۔اپ کو مسلم لیگ کے مرکزی پارلیمانی بورڈ کا رکن بننے کی دعوت ملی۔جسے اپنی علالت کے باوجود قبول کیا۔مئی میں آپ دوبادہ پنجاب مسلم لیگ کے صدر مقرر ہوئے 1937 میں” ضرب کلیم”کے نام سے اگلی کتاب ائی۔1938 میں”ارمغان حجاز”آپکا شاہکار کلام سامنے ایا آپکی شاعری کسی ایک طبقے کے لیئے نہیں ہے بلکہ کہیں بچوں کو شاہین کہتے ہیں تو کہیں نوجوانوں میں عقابی روح بیدار دیکھنے کے خواہاں ہیں آپکی شاعری کا محورو مرکز مسلم نوجوان ہے جس کو ستاروں پر کمندیں ڈالنے کی ترغیب دیتے ہیں کہیں مسلم اوراسکے لہو کو لالہ و گل سے تشبیہ دیتے ہیں آپ جانتے ہیں کہ بڑے بوڑھوں کی بجائے بچوں کی بھرپور تربیت کی جائے تبھی تو آپ نےچڑیا اور جگنو پہاڑ اور گلہری ماں کا خواب ہمدردی جیسی سبق آموز نظمیں لکھ کر تربیت فرمائی ہے آپکا پیغام خودی دنیا بھر میں پھیلا۔اپکا کلام مسلمانان عالم کی بیداری کا سبب بنا۔ایران میں آپکو شاعر بزرگ لاہوری کہا جاتا ہے۔اپ 21 اپریل 1938کوجاوید منزل میں فجر کے وقت طویل علالت کی وجہ سے انتقال فرما گئے۔اپ کو بادشاہی مسجد کے صدر دروازے میں داخل ہوتے وقت دروازے کے بائیں جانب دفن کیا گیااپکا مزار آپکی وفات کے12 سال بعد ساڑے چار سال کے عرصے میں تکمیل کو پہنچا ۔بس جو لکھا وہ کہیں کم ہے کیونکہ
اقبال ہر مقام پر اقبال مند رہا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں