’محفوظ بچے ۔ روشن مستقبل‘ ‘ہزارہ پولیس کا بہت اہم قدم ہے ، ہم سبکو ملکر بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہوگا، قاضی جمیل الرحمن

ایبٹ آباد: ڈپٹی انسپکٹر جنر ل آف پولیس ہزارہ ریجن قاضی جمیل الرحمن کی ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں محفوظ بچے ۔ ۔ روشن مستقبل کے حوالے سے منعقدہ ورکشاپ میں بطوہر مہمان خصوصی شرکت کی ، ورکشاپ کا انعقاد وائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر طاہر عرفان خان کے زیر اہتمام کیا گیا ۔ ڈی آئی جی ہزارہ کے علاوہ ایوب میڈیکل کمپلیکس کے ڈاکٹر عامر ممتاز سواتی ، پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ کریم بیڈفورڈ یونیورسٹی یوکے ، ایس ایس پی ٹریفک وارڈن ایبٹ آباد طارق محمود خان، ایس پی ہیڈ کواٹر اویس شفیق، ایس پی انوسٹی گیشن ایبٹ آباد محمد اشتیاق خان ، وکلاء اور یونیورسٹی کے میل اور فی میل پروفسیرز اور لیکچرار صاحبان نے شرکت کی ۔ ایس پی انوسٹی گیشن ایبٹ آباد محمد اشتیاق خان نے ہزارہ پولیس کی جانب سے بچوں کیساتھ جنسی زیادتی جیسے واقعات کی روک تھام کیلئے چلائی گئی خصوصی مہم ’’محفوظ بچے ۔ ۔ روشن مستقبل‘‘ کے حوالے سے ورکشاپ کے شرکاء کو تفصیلی بریفنگ پیش کی ۔ ڈی آئی جی ہزارہ قاضی جمیل الرحمن نے ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہزارہ پولیس نے بچے کے تحفظ کیلئے ایک بہت اہم اور بڑا قدم اٹھایا ہے ہم سب کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم زندگی کے جس شعبہ میں بھی اپنے فراءض سرانجام دے رہے ہیں بطور پاکستانی اور انسانیت کے ناطے ہ میں آگے بڑھنا ہوگا اور اپنے بچوں کو جنسی زیادتی جیسے واقعات کی روک تھام میں کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ہم اپنے مستقبل کو محفوظ بنا سکے ۔ ہمارے ملک کو بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن کا سامنا اور انکا حل انہیں بچوں نے کرنا ہے ، میری یونیورسٹی کے پروفیسر زاور لیکچرارزسے یہ گزارش ہوگی کہ وہ دوران کلاس بچوں کو انکے تحفظ کیلئے جو قوانین بنے ہیں اور وہ کیسے اپنے آپ کو اس برائی سے ذہنی اور جسمانی طور پر بچا سکتے ہیں انکو آگاہ کریں اور ساتھ ساتھ انکو عدم برداشت کی قوت کو بڑھانے کی تلقین کریں کیونکہ آجکل ہمارے معاشرے میں بہت سی برائیاں اور جرائم عدم برداشت کی وجہ سے جنم لے رے ہیں ۔ ڈی آئی جی ہزارہ نے مزید کہا کہ ہزارہ پولیس نے بچوں کے تحفظ کیساتھ ساتھ نوجوان نسل کے تحفظ کو یقینی بنانے اور منشیات جیسے زہر سے انکو بچانے کیلئے ڈرگ فری ہزارہ کے نام سے مہم کا آغاز کردیا جسکے دوران ہزارہ پولیس منشیات کا گھناوَنا کاروبار کرنیوالوں کیخلاف قانونی کارروائیوں کرنے کے ساتھ ساتھ منشیات کے عادی افراد کے فری علاج بھی کروائے گی اور اس حوالے سے لوگوں کو آگاہی فراہم کرنے کیلئے مختلف سیمینار ورکشاپ اور تقریب کا انعقاد کررہی ہے آپ سب سے آگے بڑھیں اور ہزارہ پولیس کے اس مشن میں پولیس کا ساتھ دیں تاکہ ہم اپنے معاشرے کو منشیات جیسی لعنت سے مکمل طور پر پاک کرسکیں ۔ میں اپنی جانب اور ہزارہ پولیس کی جانب سے وائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر طاہر عرفان خان کا انتہائی مشکور ہوں اور انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہو کہ انہوں نے ہزارہ پولیس کے اس مہم کو آگے بڑھانے میں پولیس کا ساتھ دیتے ہوئے اس ورکشاپ کا انعقاد کیا ۔ ڈی آئی جی ہزارہ قاضی جمیل الرحمن نے ہزارہ پولیس کی جانب سے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طاہر عرفان خان ، ڈاکٹر عامر ممتاز سواتی، پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ کریم کو پولیس شیلڈ بھی دی ۔ ڈاکٹر عامر ممتاز سواتی اور پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ کریم نے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے تحفظ کیلئے ہزارہ پولیس کی جانب سے محفوظ بچے روشن مستقبل کے نام سے جو مہم شروع کی گئی ہے وہ ایک بہت بڑا اور خوش آئند قدم ہے اور ہم اس مہم کو مزید موثر بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے اور ہزارہ پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے.

Abbottabad Police, Hazara Police, DIG Hazara

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں