ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں جاری ہڑتال پر نرسنگ ڈائریکٹر کا موقف

تفصیلات بتاتے ہوئےہے انھوں نی تلقین کی کہ نرسز اپنی ڈیوٹی سرانجام دے، ان کی پہلی ترجیح مریض کی دیکھ بھال ہونی چاہئے. مریضوں پر کس قسم کی سیاست نہیں ہونی چاہیے.ایوب میڈیکل کمپلیکس میں نرسنگ سٹاف کے احتجاج کے اصل حقائق یہ ہیں ایوب میڈیکل کمپلیکس میں میل اور فی میل سٹاف کی آپس میں لڑائی ہوئی جس میں ایک دوسرے کو گالم گلوچ ہوئی جس پر انکوائری کمیٹی بیٹھائی گئی اور انکوائری کمیٹی کے فیصلہ کے مطابق دونوں کی ٹرانسفر دوسرے وارڈوں میں کردی گئی اور ساتھ ہی دونوں کو ایکپلینشن لیٹر جاری کر دیا گیا۔ فی میل سٹاف نے دوسری جگہ ڈیوٹی جائن کرلی لیکن میل نرس نے دوسری جگہ ڈیوٹی کرنے سے انکار کر دیا جس پر اُسے وارینگ لیٹر ایشوکیا گیاجس کو جواز بنا کر نرسنگ سٹاف نے میڈیکل ڈائریکٹر،نرسنگ ڈائر یکٹر اور دیگر افسران کو گالم گلوج بھی کی اور ایمرجنسی کے علاوہ تمام ڈیوٹی سے بائیکاٹ کا اعلان کرکے ہڑتال شروع کر دی.یہاں یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ میں تبدیلی کرنے پر مذکورہ نرس سے 17 دن ڈیوٹی نہیں جوائن کی. اور اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا اور یونین کی ذریعہ ہسپتال انتظامیہ پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا. بعد ازاں جمعرات کے دن اس نے میڈیکل ڈائریکٹر سے بدتمیزی کی، اپنی ڈیوٹی واپس پہلے والے وارڈ میں کرنے کو کہا کہ اس شرط پہ ڈیوٹی جوائن کروں گا اور دھمکی دی کی اگر ایسا نہ کیا گیا تو ملک بھر کے ہسپتال بند کر دیئے جائیں گے. اس کی کچھ دیر بعد ہی نرسنگ یونین نے ہڑتال شروع کر دی، انتظامیہ کو گالیاں نکالی اور دھمکیاں دی کہ مذکورہ نرس کی ڈیوٹی پہلے والے وارڈ میں کی جاے. اس سب کے بعد اگلے دن جمعہ کی شام کو انتظامیہ نے اس نرس کو نوکری سے فارغ کرنے کا حکم نامہ جاری کیا. واضح ریے کہ یہ کنٹریکٹ کا ملازم ہے جو چھ ماہ پہلے بھرتی ہوا تھا اور ابھی بھی پروبیشن کے پریڈ میں تھا.نرسنگ ڈاریکٹر نے نرسز کو اپنی ڈیوٹی پر واپس آنے کی تلقین کی تاکہ مریضوں کو کسی بھی قسم کے نقصان سے بچایا جا سکے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں