ایوب میڈیکل کمپلیکس میں انجکشن لگانے سے 9افراد کی بینائی متاثر ہونے کے واقعہ کی شفاف تحقیقات ہو رہی ہیں

ایوب میڈیکل کمپلیکس میں انجکشن لگانے سے 9افراد کی بینائی متاثر ہونے کے واقعہ کی شفاف تحقیقات ہو رہی ہیں اس کے لئے استعفوں کی بھی پیشکش کی تھی جسے قبول نہیں کیا گیا ذمہ داروں کا تعین کر کے ان کو قرار واقعی سزا دی جائے گی صوبائی حکومت نے اس پر سخت نوٹس لے رکھا ہے۔ سی ٹی سکین، ایم آر آئی، انجوگرافی سمیت تمام ممکنہ سہولیات کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہیں ان خیالات کا اظہار ایوب میڈیکل کمپلیکس کے ہاسپٹل ڈائریکٹر ڈاکٹر ندیم اختر، میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر احسن اورنگزیب، ڈین ایوب میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر عمر فاروق امراض چشم کے سربراہ ڈاکٹر ساجد نے ایبٹ آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ڈاکٹر ندیم اختر نے کہا کہ 17جولائی کو آنکھوں کی بینائی سے متاثرہ 9افراد کو ایک انجکشن لگایا گیا جس سے ان کی بینائی متاثر ہوئی دوسرے روز شکایت پر ان کی مکمل ٹریٹمنٹ کے لئے انہیں داخل کیا گیا اور آپریشن کے لئے پشاور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا جس کے لئے متاثرہ افراد کو گاڑی بھی فراہم کی گئی ان کی بینائی کی بحالی کے لئے ہر ممکن کوششیں کیں۔ اس دوران ہم نے لگایا گیا انجکشن اور موجود انجکشن جو قبضہ میں لے کر ڈرگ کے حوالے کئے کیونکہ ہمارے پاس اتنی لیبارٹری کی استعداد کار نہیں کہ ان کو کوالٹی اور معیار کو چیک کیا جا سکے اور اس کی ابھی تک رپورٹ نہ کرنے کی وجہ سے ہماری جانب سے رپورٹ میں تاخیر ہوئی ہے ہم نے اپنی جانب سے کسی موقع پر بھی غفلت کا مظاہرہ نہیں کیا ہے اس معاملہ کی مکمل چھان بین ہو رہی ہے اس معاملہ سے پشاور میں سپیکر کے پی اسمبلی مشتاق احمد غنی نے بھی ہمیں بلایا جس میں ایم این اے علی خان وزیر خوراک قلندر خان لودھی اور سیکرٹری صحت سمیت دیگر متعلقہ افسران کی موجودگی میں ہم نے شفاف تحقیقات کے لئے اپنے شعبوں کی پیشکش کی لیکن قلندر لودھی اور ایم این اے علی خان جدون نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اس انجکشن مقررہ معیار اور سٹینڈر کے مطابق لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوب میڈیکل کمپلیکس سے 8.5ملین لوگ مستفید ہو ہے ہیں ساڑھے چار ہزار مریضوں کا یومیہ چیک اپ ہوتا ہے جبکہ ان کے لواحقین کی تعداد ان سے 2گنا زیادہ ہے۔ ہسپتال میں جدید ترین 12آپریشن تھیٹر، ڈینٹل کالج کی تزئین و آرائش کے علاوہ 5ملین کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انجوگرافی مشین پر 13کروڑ، ایم آر آئی 23کروڑ او ٹی پر 13کروڑ خرچ کئے جائیں گے ہمارا مصقد مریضوں کی خدمت ہے اس میں کسر روا نہیں رکھیں گے جو مشینری اپنی معیاد پوری کر چکی ہے اسے تبدیل کیا جا رہا ہے صحافیوں کے سوالات کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ ہسپتال کو ایک معیاری ادارہ بنا رہے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں