ایبٹ آباد بورڈ نے پوزیشنوں کی نئی پالیسی جاری کردی

ایبٹ آباد:ثانوی تعلیمی بورڈ ایبٹ آباد نے بورڈ کے سالانہ نتائج میں ٹاپ ٹوئنٹی پوزیشنوں کا طریقہئ کار ختم کرکے پہلی تین پوزیشنوں کے اعلان کی پالیسی وضع کی ہے جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہوگیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت میٹرک اور انٹر میڈیٹ کے نتائج کے موقع پر پہلی بیس پوزیشنوں کے بجائے مجموعی طور پر پہلی تین پوزیشنیں لینے والے طلبہ کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا جبکہ سائنس، آرٹس، پری میڈیکل اور پری انجینئرنگ کے شعبوں میں بھی پہلی تین پوزیشنوں کے حامل طلبہ کے ناموں کا اجرا ہوگا۔

اس سلسلے میں میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے ثانوی تعلیمی بورڈ ایبٹ آباد کی چیئرپرسن ڈاکٹر شائستہ ارشاد خان نے کہا کہ حال ہی میں انہوں نے پشاور میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کی جس میں پوزیشنوں کے اعلان کا معاملہ زیرِ بحث آیا اور باہمی مشاورت سے بورڈ میں پہلی 20 پوزیشنوں کے اعلان کی پالیسی ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پرانی پالیسی کی سب سے بڑی قباحت تعلیمی اداروں کا نمبروں کی دوڑ میں شامل ہونا تھا جس کے نتیجے میں نقل کا رجحا ن بڑھا ۔ ڈاکٹر شائستہ ارشاد نے کہا کہ چونکہ پہلی بیس پوزیشنوں میں مشترکہ پوزیشنیں بھی ہوتی تھیں تو اس رُو سے گزٹ میں ساٹھ، ستر طلبا و طالبات کے نام ٹاپ لسٹ میں آتے۔ ایسے میں ہر تعلیمی ادارے کی کوشش ہوتی کہ اُس کا نام بھی فہرست میں آئے۔ یوں ایک دوسرے پر سبقت لینے کے لیے تعلیم کے اصل مقصد کو پس پشت ڈال دیا گیااور طلبہ کی کردار سازی کے بجائے نمبر گیم کو ترجیح دی جاتی رہی۔ اس امر کے تعلیمی عمل پر منفی اثرات ہوئے جس کے باعث بامعنی تعلیم کو فروغ نہ مل سکا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ تعلیمی بورڈ کی نئی پالیسی سے جہاں بوٹی مافیا کا سدباب ہوگا، وہیں طلبہ میں احساسِ کمتری کا خاتمہ بھی ہوگا۔

تعلیمی بورڈ کی چیئرپرسن نے مزید کہا کہ وہ امتحانی نظام کو شفاف بنانے کے لیے بورڈز کے مابین پرچہ جات کی توثیق (Inter-Board Validation) کا نظام بھی متعارف کرارہی ہیں جس کے تحت امتحانی نظام میں جعل سازی، جانبداری اور غیر قانونی ذرائع کے استعمال کی روک تھام ہوگی تاکہ مستحق طلبہ کی حق تلفی نہ ہو۔ انہوں نے اس امر کی نشان دہی کی کہ امتحانی نظام میں بہتری لانے کے لیے حالیہ دنوں مؤثر اقدامات اٹھائے جارہے ہیں جن کے مستقبل قریب میں دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ڈاکٹر شائستہ ارشادکے مطابق پہلی تین پوزیشنوں کے اعلان سے متعلق بورڈ کی وضع کردہ نئی پالیسی کا اطلاق اگلے امتحانی نتائج پر ہوگا جس کے لیے متعلقہ عملے کو خصوصی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ادھر طلبہ کے والدین اور سنجیدہ تعلیمی حلقوں نے تعلیمی بورڈ کے فیصلے کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس سے نظام تعلیم میں انقلابی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں