کینٹ بورڈ ایبٹ آباد کے وائس چیئرمین کے انتخاب کا الیکشن مذید لٹک گیا

ایبٹ آباد: کینٹونمنٹ بورڈ ایبٹ آباد دو مخصوص نشستوں پر الیکشن کو کالعدم قرار دینےکی درخواست،الیکشن کمیشن آف پاکستان میں مسلم لیگ ن کے وکیل کی غیر حاضری،فیصلہ آئندہ سماعت پرامکان ہے۔جب کہ کینٹ بورڈ ایبٹ آباد کے وائس چیئرمین کے انتخاب کا الیکشن مذید لٹک گیا
تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ ممبر کینٹ بورڈ دلاور خان نے الیکشن کمیشن میں درخواست دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کینٹ بورڈ کے دو مخصوص نشستوں پر الیکشن کی پولنگ سے قبل ان کو مبینہ طور پر اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کرکے حق رائے دہی سے محروم کیا گیا ،اور الیکشن میں تحریک انصاف کے امیدواروں کو کامیاب بنایا گیا ،بعد ازاں پولنگ کا عمل مکمل ہونے بعد کھوکھر میرا ایبٹ آباد کے مقام پرچھوڑا گیا ۔ممبر کینٹ بورڈ دلاور خان نے الیکشن کمیشن کو درخواست کی کہ مذکورہ الیکشن کو کالعدم قرار دیکر دوبارہ پولنگ کا شیڈول جاری کیا جائے۔ جس پر الیکشن کمیشن نے درخواست سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو کینٹ بورڈ الیکشن کمیشن ایبٹ آباد ،ڈی پی او ایبٹ آباد ،تحریک انصاف کی ضلعی قیادت اور کامیاب ہونے والےمخصوص ممبران کونوٹسز جاری کرکے جواب طلب کیا تھا ۔مذکورہ رٹ پر الیکشن کمیشن میں ممبر کینٹ بورڈ دلاور خان کےمبینہ اغواء کے معاملہ پر جمعہ کے روز پیشی کے موقع پر مسلم لیگ ن کی جانب سے وکیل کی غیر حاضری پر آئندہ سماعت 9 جنوری کو ہوگی۔الیکشن کمیشن میں سماعت کے موقع پر مسلم لیگ ن کی جانب سے سردار حنیف، ملک سرور ،ممبر کینٹ بورڈ دلاور خان اور بیدار بخت موجود تھے۔ جب کہ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے متوقع امیدار وائس چیئرمین کینٹ بورڈ دانیال خان کی سربراہی میں ممبر کینٹ بورڈ قاضی احتشام الحق،ناصرسلیمان عباسی ،پاکستان پیپلز پارٹی کے فواد خان جدون ،طیب اعوان ،اقلیت ممبر شہزاد گل کے علاوہ قانون دان سجاد انور ایڈووکیٹ ،کامران گل ایڈووکیٹ ،سابق پراسیکیوٹر فخر السلام فخری ایڈووکیٹ بھی موجود تھے۔جب کہ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کی جانب سے ایس ایس پی ہیڈکواٹر عارف جاوید نے حاضری کی۔کینٹ بورڈ ایبٹ آباد کی مخصوص نشستوں پر الیکشن کو کالعدم یا درخواست کو خارج ہونے کے فیصلہ کا امکان آئندہ سماعت پر متوقع ہے۔واضح رہے کہ کینٹ بورڈ ایبٹ آباد کے الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف نے دس وارڈ میں سے 4نشستوں پر کامیابی حاصل کی جب کہ مسلم لیگ کو ن تین پارٹی اور دو آزاد ممبران کی حمایت سے عددی برتری حاصل تھی جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر کینٹ بورڈ نے پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کی اور مخصوص نشستوں پر الیکشن میں ایک پیپلز پارٹی اور ایک پی ٹی آئی کے اقلیتی امیدوار کے انتخاب میں ووٹ برابر ہونے پر ٹاس پر فیصلہ کیا گیا تھا ۔مذکورہ الیکشن میں مسلم لیگ ن کے حمایتی ممبر دلاور خان کی غیر حاضری سے واضح اکثریت کے باوجود مسلم لیگ ن کے مخصوص ممبران شکست سے دوچار ہوئے تھے۔

Cantt Board Election delayed

Cantt Board Election

Abbottabad Cantt Election

Cantonment Election Abbottabad

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں