کورونا کی پہلی لہر کے دوران خواجہ سراؤں کے نام پر لاکھوں روپے کی امدادی رقوم ہڑپ

ایبٹ آباد : کورونا کی پہلی لہر کے دوران خواجہ سراؤں کے نام پر لاکھوں روپے کی امدادی رقوم ہڑپ کرلی گئی۔امداد دینے والوں کے سامنے کمشنر ہزارہ کا نام استعمال کیا گیا،ایبٹ آباد کی رہائشی خاتون نے دنیا بھر سے اور پاکستان سے خواجہ سراؤں کے نام پر لاکھوں روپے چندہ جمع کر کے ہضم کیا، کورونا مشکل ترین حالات میں کسی حکومتی ادارے یا این جی او کی طرف سے کسی قسم کی کوئی بھی امداد نہیں ملی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ایبٹ آباد پریس کلب میں خواجہ سراء کمیونٹی کی رہنماء اور اسلام آباد میں متحرک سماجی ورکر مس جولی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ مس جولی جو کہ ٹرانس جینڈر ایکٹویسٹ ہیں۔انکے ہمراہ اسلام آباد سے شی میل ایسو سی ایشن کے عہدیدران ندیم کشش،صباء گل اور دیگر کے علاوہ مقامی خواجہ سراء رانی،زلفی،شیرنی،زکی،نادیہ،ماریہ خان ودیگر ایبٹ آباد،مانسہرہ اور ہریپور کے خواجہ سراء بھی موجودتھے۔مس جولی نے اس حوالہ سے مزید بتایا کہ کورونا کی پہلی لہر کے دوران خواجہ سراء بہت زیادہ معاشی مسائل کا شکار ہوئے۔مگر اس دوران خواجہ سراؤں کے نام پر خوب لوٹ مار کی گئی، ایبٹ آباد سے سول سسٹر (Soul Sister) کے نام سے فیس بک پر پیج چلانے والی خاتون رمشہ تاج جدون نے اندرون ملک ور بیرون ملک سے خواجہ سراؤں کے نام پر لاکھوں روپے کی امدادی رقوم منگوائیں اور کچھ تصاویر لگادیں۔جن میں وہ کچھ خواجہ سراؤں کو راشن تقسیم کر رہی ہیں۔ سعودی عرب سے ایک پاکستانی ڈاکٹر سعدیہ نے پیسے بھیجے اور جب پوچھا کہ مجھے تفصیلات دیں آپ نے کس کس کو امداد دی ہے وہ خود انہیں پہنچادیں گے اسی طرح تقریباََ 50لاکھ روپے کے قریب امدادی رقم کا کوئی حساب نہیں وہ انہوں نے کسی کو دی ہے جبکہ اس موقع پر شی میل ایسو سی ایشن کے لیگل ایڈوائزر ندیم تنولی نے بتایا کہ کمشنر ہزارہ کا نام استعمال کرنے والی شکایت پر انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔مس جولی نے مزید کہا کہ اگر یہ معاملہ حل نہ ہوا توہم قانونی کاروائی کرینگے کیونکہ اس معاملے میں ہمارا نام استعمال کرکے امداد ی رقم اکٹھی کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں