جھوٹے مقدامات کے اندراج پر متعلقہ پولیس افسران کے خلاف محکمانہ کارائی عمل میں لائی جائیگی،ڈی آئی جی ہزارہ

ایبٹ آباد: ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ہزارہ ریجن میرویس نیاز کی زیرصدارت نے انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخواہ ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی کی ہدایت کی روشنی میں ریجنل کانفرنس ہال میں ہزارہ ریجن کے تمام ایس پی انوسٹی گیشن کی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔اس میٹنگ میں ایس پی انوسٹی گیشن ہریپور مجیب الرحمن، ایس پی انوسٹی گیشن ایبٹ آباد اشتیاق احمد، ایس پی انوسٹی گیشن مانسہرہ حافظ جانس، ایس پی انوسٹی گیشن بٹگرام نذیر خان، ایس پی انوسٹی گیشن تورغر اعجاز احمد، ایس پی انوسٹی گیشن اپر کوہستان امجد حسین، ایس پی انوسٹی گیشن لوئر کوہستان سلیمان خان اور ایس پی انوسٹی گیشن کولئی پالس کوہستان سردار جہانگیر نے اس میٹنگ میں شرکت کی۔تمام ایس پی شعبہ تفتیش نے فردً فردً اپنے ضلع کے زیر تفتیش مقدمات کے متعلق ڈی آئی جی ہزارہ کو تفصیلی بریفنگ پیش کی۔ڈی آئی جی ہزارہ نے تمام تفصیلات کو باریک بینی سے جائزہ لیا اور مختلف کیسز کے بارے میں متعلقہ افسران سے سوالات کیے اور انکی بہتری کے لئے ہدایات دی گئیں۔ڈی آئی جی ہزارہ نے اس موقع پر تمام ایس پی انوسٹی گیش صاحبان کو ہدایات دیں کہ جرائم کی شرح میں کمی لانے کیلئے اپنے تمام تر وسائل کو استعمال کریں اور جرائم کی شرح میں کمی لانا لازمی ہے۔ایس پی انوسٹی گیشن صاحبان اہم مقدمات کی تفتیش کے تمام مراحل کی خود نگرانی کیا کریں تاکہ لوگوں کو انصاف فراہم ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے پولیس افسران جو کہ اپنی کارکردگی کو بڑھانے کی غرض کیلئے منشیات، اسلحہ و دیگر جھوٹے مقدمات کا اندراج کریں انکے خلاف بھرپور محکمانہ کاروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ مقدمات کا اندار ج انصاف پر مبنی ہو نا چاہیے نا کہ لوگوں کو پریشان کرنے یا اپنی کارکرگی بڑھانے کیلئے۔ڈی آئی جی ہزارہ نے مزید ٹریفک حادثات کی تفصیلات کو اکٹھا کریں اور چیک کریں کہ کونسے ایسے مقامات ہیں جہاں پر زیادہ حادثات رونما ہوتے ہیں ان کی نشاندہی کر کے دیگر متعلقہ محکموں سے خط و کتابت کر کے ایسے مقامات کی مرمت کروائی جائے تاکہ ٹریفک حادثات میں کمی لائی جا سکے۔تیز رفتاری، کم عمر ڈرائیور اور رائیڈر کے خلاف بھی کاروائیاں کی جائیں اور ایسے اشخاص جو کہ گاڑیاں یا موٹر سائیکل کیساتھ غیر نمونہ نمبر پلیٹس کا استعمال کریں یا پھر بلا نمبر گاڑی یا موٹر سائیکل چلائیں انکے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے اور متعلقہ محکمہ کے تعاون سے گاڑیوں کی رجسٹریشن کی تصدیق ہوسکے اور جرائم میں استعمال ہونے والی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو جرم ہونے سے پہلے روکا جاسکے۔ڈی آئی جی ہزارہ نے تمام ایس پی انوسٹی گیشن کو ہدایت کی کہ تمام زیر تفتیش مقدمات کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جلد از جلد مکمل کر کے ملزمان کو سزائیں دلوائی جائیں۔

DIG Hazara

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں