ہر ایس ایچ اودو گھنٹے تھانہ میں عوام کے مسائل خود سننے کی ہدایت ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایبٹ آباد یاسر آفریدی ۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایبٹ آباد یاسر آفریدی کی ضلع بھر کے ایس ڈی پی اوز اور ایس ایچ اوز کے ہمراہ تعارفی میٹنگ روزانہ کی بنیاد پر دو گھنٹے ہر ایس ایچ او کو تھانہ میں عوام کے مسائل خود سننے کی ہدایت ۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ڈی پی او آفس میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ایبٹ آباد یاسر آفریدی نے ضلع کے جملہ ایس ڈی پی او ز اور ایس ایچ اوز کے ہمراہ تعارفی میٹنگ کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ محکمہ پولیس میں گزشتہ دس سال سے سرو کررہو ہوں آج کی میٹنگ کا مقصد آپ لوگوں کو پالیسی گائیڈ لائینز دینا تھا اس حوالے سے آپ کو بتاتا چلوں کہ تھانہ جات میں آنے والے سائلین ، مظلوم اور غریب لوگوں سے اخلاق سے پیش آئیں اور ہر آنے والے سائل کو تھانہ میں بیٹھنے کے لیے کرسی پیش کرنے کے ساتھ ان کی فریاد کو سنتے ہوئے قانون کے مطابق ہر طرح سے ان کی مدد کریں آپ ایسے لوگوں کا ساتھ نہیں دیں گے تو میں سمجھو گا کہ آپ نے میری بے عزتی کی ہے اس کے علاوہ ہر ایس ایچ او دن میں دو گھنٹے عوام سے ملاقات کے لیے رکھے تاکہ آپ اپنے علاقہ کے لوگوں کے مسائل سے بخوبی آگاہ ہوں اور اس کا سدباب کر سکیں ، فیلڈ میں ایمانداری کا مظاہرہ کرنا ہے ، غلطیاں سب سے ہوتی ہیں کسی بھی مسئلے کو اپنی انا کا مسئلہ نہیں بنانا ایک پروفیشنل پولیس آفیسر کی حیثیت سے اپنے آپ کو منوانا ہے تفتیش کے امور میں بہتری لانی ہے سول کیسیز جو آپ کے دائرہ اختیار میں نہ ہوں انہیں مدعی کو عدالت سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا کریں تاکہ لوگوں کے پیسے اور وقت کا ضیاع نہ ہو اس کےعلاوہ وردی کی عزت اور وقار کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے ہمارے پاس آنے والے سائیلین اور مظلوم افراد کی داد رسی کرتے ہوئے ہمیں اپنے فرائض کی انجام دہی میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں برتنی چاہے اپنے شہر کے لوگوں کی عزت نفس ، جان و مال کا تحفظ کرنا ہم سب کا فرض ہے جرائم پیشہ ، شرپسند عناصر کو قطعی اجازت نہیں کہ وہ شہر کے امن میں خلل ڈالیں اس حوالے سے قانون حرکت میں آئے گا ، کرپٹ افراد کے خلاف بھرپور کاروائی کی جائے گی کرپشن میں ملوث کسی بھی شخص کو کوئی معافی نہیں دی جائے گی ، ایس ایچ اوز کو ہدایات دیتے ہوئے ڈی پی او ایبٹ آباد یاسر آفریدی کا کہنا تھا کہ غیرت کے نام پر ہونے والے واقعات میں فوری ایکشن ہونا چاہے اس حوالے تاخیر کی گنجائش نہیں تھانہ جات کے ریکارڈ کو درست اور کمپیوٹرائزڈ کیا جائے تاکہ ریکارڈ کو مینٹین رکھا جا سکے ڈی آر سی اور پبلک لیزان کونسلز کے ممبران کو عزت دی جائے یہ لوگ ہمارے بازو ہیں بچوں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے آگاہی مہم شروع کریں اس حوالے سے کھیلوں کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں پولیس اپنی سرپرستی میں کھیلوں کے ٹورنامنٹ منعقد کروائے تاکہ بچوں اور نوجوانوں کو اپنی صلاحتیں منوانے کے مواقع میسر ہوں اور وہ غیر اخلاقی اور نشے جیسی لعنت سے دور رہ سکیں ۔

DPO order SHOs to listen Public Problems for two hour daily

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں