وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود سے اسکول ایجوکیشن کے لیے مختص بجٹ کو بڑھانے کی اپیل

اسلام آباد: وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت جناب شفقت محمود اور ان کی پوری ٹیم ایک دہائی کے دوران وفاقی تعلیمی ترقیاتی بجٹ میں سب سے بڑے اضافہ کا اعلان کرنے پر بڑی مبارکباد کی مستحق ہے۔ تاہم ، ترقیاتی بجٹ کا محض 10 فیصد اسکول ایجوکیشن کے لئے مختص کیا گیا ہے ، لہذا فنڈز کی تقسیم پر فوری نظرثانی کی ضرورت ہے۔” یہ بیان ایگزیکٹو ڈائریکٹر پاکستان یوتھ چینج ایڈووکیٹس (پی وائی سی اے) اریبہ شاہد نے حالیہ بجٹ اعلانات کے پس منظر میں دیا۔
مالی سال 2020 2021 کے دوران وفاقی حکومت نےتعلیم کی مد میں مجموعی طور پر 140 ارب روپے مختص کیے۔ اس سال تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں 44 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا، جو پچھلے 10سال کے مقابلے میں وفاقی سطح پر کیا جانے والا سب سے پڑا اضافہ ہے۔ 10 فیصد ترقیاتی فنڈز اسکول ایجوکیشن پر خرچ کیے جائیں گے ، جبکہ 90 فیصد کو اعلی تعلیم کے لئے مختص کیا گیا ہے۔
پی وائی سی اے کے پروگرام کوآرڈینیٹر مسٹر ہشام خان نے تعلیمی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے بتایا، “اگرچہ ، آٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کی بنیادی ذمہ داری اعلی تعلیم ہے ، لیکن فیڈرل ایریا کے اسکول بھی اس کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں 30،000 بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ لہذا اسکول ایجوکیشن کے لئے مختص کیا گیا موجودہ بجٹ انتہائی پسماندہ بچوں کی تعلیم تک رسائی ممکن بنانے کے لیے ناکافی ہے۔”
کویڈ۔۱۹ سے گھریلو سطح پر پیدا ہونے والے معاشی بحران کے بعد اسکول ایجوکیشن کو مزید ترجیح دینے کی ضرورت اور بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ پاکستان سے سامنے آنے والے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق بچوں، خاص طور پر لڑکیوں کا بڑی تعداد میں اسکولوں سے ڈراب آوٹ ہونے کا خدشہ ہے۔ اس سنگین صورتحال پر موثر قابو پانے کے لیے ایک طویل مدتی مالی حکمت عملی کی اشد ضرورت ہے۔
ہزاروں انتہائی پسماندہ بچوں کے تعلیمی مستقبل کو بچانے کے لیے ، وفاقی وزیر تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے جناب شفقت محمود کو لازمی طور پر اس صورتحال کا ہمدردانہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ وفاقی دارالحکومت میں موجود سب سے پسماندہ بچے تعلیم سے محروم نہ رہ جائیں

education budget

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں