امتحانات: جرائم کہانی !

ژرف نگاہ …. شبیرحسین اِمام

”جب لوگ یہ کہتے ہیں خدا دیکھ رہا ہے …. میں دیکھنے لگتا ہوں کہ کیا دیکھ رہا ہے!“ علم‘ تعلیم اُور خواندگی جیسے تصورات اِس قدر سنگین بے قاعدگیوں تلے دبے ہوئے ہیں کہ اَب اِن بے قاعدگیوں نے جرائم کی صورت اختیار کر لی ہے۔ اَمر واقعہ یہ ہے کہ دسویں جماعت (سیکنڈری سکول سرٹیفکیٹ) کا امتحان الگ کمرے (تنہائی) میں دینے اُور نقل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں نشاندہی ہونے پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے مالاکنڈ کے امتحانی منتظم اِدارے (بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن) کے کنٹرولر امتحانات کو اُن کی ذمہ داریوں سے الگ کر دیا ہے اُور یہاں بھی ایک نہیں بلکہ کئی ایک جرائم سرزد ہوئے ہیں لیکن ’سزا‘ عمومی اُور ناکافی ہے۔ ذہن نشین رہے کہ کسی بھی امتحانی بورڈ کا سربراہ (کنٹرولنگ اتھارٹی) وزیراعلیٰ ہوتا ہے جنہوں نے 18ویں گریڈ کے کنٹرولر امتحانات وزیر خان کی خدمات ’امتحانی بورڈ‘ سے ختم کر کے اُن کی خدمات ’ثانوی و بنیادی تعلیم کے محکمے (ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ) کے حوالے کر دی ہیں اُور ساتھ ہی اُن کے خلاف قانون کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں کاروائی کا بھی حکم دیا ہے۔ 14 جولائی کے روز محکمہ تعلیم (ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ) کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے (نوٹیفیکیشن) مالاکنڈ بورڈ کے سیکرٹری کو فوری طور پر اُور تا حکم ثانی ’کنٹرول امتحانات‘ کی اضافی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں جبکہ صورتحال یہ ہے کہ اگر سیکرٹری بورڈ یا دیگر اعلیٰ و ادنیٰ حکام اپنے فرائض منصبی امانت و دیانت کے اصولوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے سرانجام دے رہے ہوتے تو کسی کنٹرولر امتحانات کی یہ جرات ہی نہ ہوتی کہ وہ نگرانوں کی ناک کے نیچے یوں من مانیاں کر رہا ہوتا۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ میاں وزیر جان کے بیٹے کو کیمیا (کیمسٹری) کا پرچہ الگ کمرے میں دینے اُور نقل کرنے کی پاداش میں ’امتحانی قواعد و ضوابط کے تحت‘ زیادہ سے زیادہ یہ سزا دی جا سکتی ہے کہ وہ پورا امتحان دوبارہ دے گا لیکن اگر اختیارات کے ناجائز استعمال کی صورت ہونے والے جرم کو ”بدعنوانی‘ امانت میں خیانت اُور دھوکہ دہی“ کے تناظر میں دیکھا جائے تو اِس کی سزا صرف تبادلے سے کئی گنا زیادہ سخت ہو سکتی ہے کیونکہ کہانی میں مجرم اُور شریک مجرم صرف 2 (باپ بیٹا) نہیں بلکہ وہ امتحانی عملہ بھی ہے جس نے سہولت کار کا کردار ادا کیا اُور یکساں سزا کا مستحق وہ سبھی امتحانی عملہ ہے کہ جنہوں نے باخبر ہونے (بے قاعدگی کو دیکھنے) کے باوجود اِس جرم کی پردہ پوشی کی۔ اگر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی جانب سے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ویڈیو نہ بنائی جاتی اُور مذکورہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل نہ ہوتی تو کیا وزیراعلیٰ سمیت صوبائی حکومت اُور محکمہ تعلیم کے فیصلہ ساز کبھی بھی اِس خبر کی حقیقت کو تسلیم نہ کرتے کہ کسی امتحانی مرکز میں ایسا بھی ہو سکتا ہے!
مالاکنڈ کے ایک ’امتحانی مرکز‘ کی صورتحال منظر عام پر آئی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں 8 امتحانی بورڈز ہیں‘ جن کی زیرنگرانی 10ویں اُور 12ویں جماعتوں کے ’بورڈ امتحانات‘ کورونا وبا سے بچاؤ کے لئے حفاظتی تدابیر (SOPs) کے تحت ہو رہے ہیں جبکہ 9ویں اُور 11ویں جماعتوں کے امتحانات دسویں اُور بارہویں کے امتحانات ختم ہونے کے ایک ہفتہ بعد ہوں گے۔ اِس سال دسویں جماعت کے امتحان کے لئے 8 لاکھ 4 ہزار 565 طلبا و طالبات جبکہ بارہویں (انٹرمیڈیٹ) جماعت کے لئے 5 لاکھ 7 ہزار 177 طلبا و طالبات امتحان دے رہے ہیں۔ اِن اعدادوشمار کا مطلب یہ ہے کہ 13 لاکھ 11 ہزار 741 طلبا و طالبات کو جب یہ معلوم ہوا کہ کسی امتحانی بورڈ کے کنٹرولر کا صاحبزادہ خصوصی مراعات کے ساتھ امتحان دے رہا ہے اُور اُسے نقل کرنے کی کھلی چھوٹ بھی ملی ہوئی ہے تو اِن تیرہ لاکھ گیارہ ہزار سے زیادہ طلبا و طالبات کی نظروں میں پورا امتحانی نظام بشمول امتحانات کی نگرانی کے اداروں کی کارکردگی اُور امتحانی نتائج جیسے مراحل کس قدر بے وقعت ہو گئے ہوں گے‘ جو پہلے ہی مشکوک تھے اُور جن کے بارے میں پہلے ہی تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے لیکن اِس مرتبہ کنٹرولر امتحانات کے بیٹے کی ویڈیو نے بھانڈا پھوڑ دیا ہے کہ کس طرح امتحانات کے نگران اپنے اختیارات سے ناجائز فائدہ اُٹھا سکتے ہیں اُور یقینا ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ کوئی ”طالب علم اپنے عظیم منصب سے گرتے ہوئے طالب ِنقل قرار پایا ہے۔“ امتحانات میں چھوٹی موٹی نقل (پوچھ گچھ)‘ تانا جھانکی یوں تو معمول کی بات ہے بالخصوص جب ہم اُن نجی تعلیمی اداروں کی بات کرتے ہیں کہ جن سے تعلق رکھنے والے امتحانی اُمیدوار غیرمعمولی نتائج پیش کرتے ہیں تو اِس صورتحال (بندوبست) کے حوالے سے ہر سال ”کثیر افواہیں“ گردش کرتی ہیں کہ فلاں سکول کا امتحانی ہال فروخت ہوا‘ جہاں نقل کی کھلے عام اجازت ہے اُور سکول انتظامیہ تعینات ہونے والے امتحانی عملے کی وفاداریاں تحفے تحائف کے عوض خرید لیتی ہے لیکن چونکہ یہاں ویڈیو (ناقابل تردید ثبوت) نہیں‘ اِس لئے یہ بات (حقیقت) نہ تو صوبائی کابینہ کے کسی رکن اُور نہ ہی متعلقہ محکموں کے ذمہ داروں کو ہضم ہو گی‘ جن کی نظر میں خیبرپختونخوا میں تعلیمی اداروں کی نگرانی‘ اِمتحانی نظام اُور امتحانی نتائج کا عمل مثالی ہے!

شاعر جان ایلیا نے یہ کہتے ہوئے توجہ دلائی تھی کہ حال میں چھپے مستقبل کی تلاش اُور جستجو کی جائے ”عمر گزرے گی امتحان میں کیا …. داغ ہی دیں گے مجھ کو دان میں کیا“ اِس شعری پہلو کی روشنی میں سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ مالاکنڈ بورڈ کے کنٹرولر امتحانات کی سرکاری ملازمت خطرے میں ہے‘ جسے بچانے کے لئے کسی وکیل کی خدمات حاصل کی جائیں گی اُور وکیل عدالت میں یہ ثابت کر دے گا کہ مذکورہ طالب علم کورونا وبا سے متاثر ہے‘ جس کے لئے ’کورونا پازیٹو‘ یا کسی سنگین مرض کی طبی معائنہ سند (لیبارٹری رپورٹ) حاصل کرنا قطعی مشکل نہیں اُور رہی بات نقل کرنے کی تو بیٹے کے جرم کی سزا والد کو دینے کا قانون قبائلی علاقوں میں ’فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز (ایف سی آر)‘ کی صورت رائج تھا جو قبائلی علاقوں کے ضم ہونے کے بعد ختم ہو چکا ہے! ذہن نشین رہے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے کسی امتحانی ہال کے اندر زیادہ سے زیادہ 40 طلبہ کو بیٹھنے کی اجازت ہوتی ہے لیکن کورونا وبا کی وجہ سے اِس گنجائش کو کم کر کے 25 سے 30 طلبہ فی امتحانی مرکز کر دیا گیا ہے یوں وکیل کے لئے عدالت یا ملزم (کنٹرولر امتحانات) کے لئے اپنے خلاف محکمانہ تحقیقات میں یہ بات ثابت کرنا آسان ہو جائے گا کہ امتحانی ہال میں کورونا ایس اُو پیز کو مدنظر رکھتے ہوئے طلبہ کو بٹھایا گیا اُور گنجائش سے زیادہ طلبہ ہونے کی وجہ سے امتحانی عملے نے ایک طالب علم کو الگ بٹھا دیا‘ جو ایک وقتی انتظامی فیصلہ تھا اُور اِس فیصلے کا اُن سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ اُنہوں نے ایسا کوئی بھی تحریری ہدایات نامہ جاری نہیں کیا کہ اُن کے بیٹے کو امتحان میں نقل کرنے کی اجازت دی جائے۔ امتحانی نظام اُور امتحانات کی نگرانی کا نظام سنجیدہ توجہ (اصلاحات) کا متقاضی ہے اُور اِس سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو عام آدمی (ہم عوام) کی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے یاد دہانی کروانی ہے کہ رواں سال جاری امتحانی عمل تاریخ کے مہنگے ترین امتحانات ہیں کیونکہ اِس میں پچیس سے تیس طلبہ پر ایک امتحانی نگران مقرر کیا گیا ہے اُور اِس مرتبہ ماضی کے مقابلے زیادہ نگران (invigilators) تعینات کئے گئے ہیں لیکن نتیجہ (حاصل) وہی ہے کہ امتحانات کا عمل‘ نگرانی اُور نتائج پہلے سے زیادہ مشکوک ہو گئے ہیں۔

تصور کریں کہ دنیا پہلے ہی ”اسلامی جمہوریہ پاکستان“ کے امتحانی نظام کو نہیں مانتی‘ جس سے ہمارے فیصلہ سازوں اُور محکموں کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن دیگر صوبے خیبرپختونخوا کے بارے میں کیا سوچتے رہے ہوںگے؟ یہ تصور اُن طلبہ اُور والدین کے لئے پریشانی کا باعث ہے جن کے بچوں کا تعلیمی مستقبل ’خیبرپختونخوا‘ کے امتحانی بورڈز سے وابستہ ہے۔ ”سوچ کی لہروں کا مجمع ٹھیک ہے …. زندگی کا مسئلہ باریک ہے! (ساجد اثر)۔“

Examination Column BY Shabir Hussain Imam

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں