تربیلا جھیل میں کشتی الٹنے سے لاپتہ 21 افراد کے اہلخانہ کی امیدیں دم توڑنے لگیں

ہری پور۔تربیلا جھیل میں کشتی الٹنے سے لاپتہ 21 افراد کے اہلخانہ کی امیدیں دم توڑنے لگیں، دوسرے دن بھی ریسکیو آپریشن جاری رہا، آرمی جوان بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک ہیں۔تربیلا جھیل میں پانی کا بہا بہت زیاد ہے جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کو مشکلات کا سامنا ہے، گزشتہ رات ریسکیو آپریشن میں 11 افراد کو بچایا گیا جبکہ 3 بچوں کی لاشیں نکالی گئیں تھیں۔ادھر تربیلا جھیل میں کشتی الٹنے کے حادثے سے کچھ دیر پہلے کی فوٹیج نجی ٹی وی پر جاری کی گئی جس میں پانی کی تیز لہریں بھی دیکھی جاسکتی ہیں، کشتی مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ایک مسافر نے حادثے سے پہلے فوٹیج سوشل میڈیا پربراہ راست دکھائی جس میں نوجوان نے ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا دریا بہت خطرناک ہے، سب دعا کریں، ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کروں گا۔ کشتی میں سوار افراد کلمہ کا ورد کرتے نظر آ رہے ہیں۔تربیلہ جھیل کشتی حادثہ میں لاپتہ ہونے والے مسافروں کی تلاش کے لیے پاک آرمی کے جوانوں اور مقامی افراد کا ریسکو آپریشن دوسرے روز بھی جاری رہا دریائے سندھ کے پانی کے تیز ترین بہاؤ کی وجہ سے ریسکو آپریشن میں مشکلات کا سامنا حادثہ کا شکار ہونے والی کشتی کو نکال لیا گیا لاپتہ مسافروں کی تلاش جاری بدھ کے روز کالاڈھاکہ کی مسافر کشتی درجنوں مسافروں اور مال مویشی کولے کر ہری پور آرہی تھی کہ تربیلہ جھیل برگ درہ کے مقام پر دریا کی تیز لہروں کے بھنور میں حادثہ کاشکا ر ہوکر الٹ گئی بیشترمسافر لاپتہ ہوگئے جبکہ 15کے قریب مسافروں نے تیر کر جان بچائی چار بچوں کی نعشیں ممقامی افراد نے نکالیںکشتی حادثہ کے دوسرے روز بھی پاک آرمی کے جوانوں کے ساتھ ساتھ علاقہ تناول کالاڈھاکہ اور جامع اتمان کے درجنوں دیہات کے عوام علاقہ نے ریسکو آپریشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تاہم آخری اطلاعات موصول ہونے تک کسی مسافر کی نعش نہ مل سکی لاپتہ ہونے والے مسافروں کی زیادہ تعداد کالا ڈھاکہ سے تھی بتایا جاتاہے کہ حادثہ کے وقت کشتی میںدرجنوں مسافر اور مال مویشی سوار تھے جن میں مرد خواتین اور بچے شامل تھے حادثہ کے دوسرے روز بھی پاک آرمی کے جوانوں کے ساتھ ساتھ مقامی افراد نے ریسکو آپریشن میں حصہ لیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں