ہزارہ پولیس کی سکول بچوں کی قیمتی جانوں سے کھیلنے والے ڈرائیوروں کیخلاف مہم جاری

ایبٹ آباد : ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ہزارہ یجن قاضی جمیل الرحمن نے عوامی شکایات پر نوٹس لیتے ہوئے اور ٹریفک حادثات میں سکول کے چھوٹے بچوں کی قیمتی جانوں کے ضیائع پر نوٹس لیتے ہوئے ہزارہ کے تمام ڈی پی اوز کو یہ ایسے تمام ڈرائیوروں کیخلاف کارروائی کرنے کی ہدایات جاری کی جو سکول کے بچوں کو گاڑی میں گنجائش سے زیادہ بچے بیٹھاتے، گاڑی کی سائیڈز اور چھتوں پر بیٹھاتے اور کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے جاری احکامات پر عمل درآمد نہیں کررہے تھے انکے خلاف خصوصی مہم چلائی جائے، ہزارہ کے تمام اضلاع میں ڈی پی اوز صاحبان کی خصوصی نگرانی میں ٹریفک پولیس نے کارروائیوں کا آغاز شروع کیا۔ ایک ہفتہ کے دوران ہزارہ ریجن میں 2000سے زائد گاڑیاں چالان کا چالان کیا، 865گاڑیوں کو بند کیا گیا جبکہ 731 سے زائد گاڑیوں کو مشروط وارننگ جاری کی گئی اور بھاری جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ اس حوالے سے ڈی آئی جی ہزارہ قاضی جمیل الرحمن نے کہا کہ سکول جانے والے بچوں کی قیمتی جانوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے کیونکہ یہ بچے پاکستان کا روشن مستقبل ہے ڈرائیوروں کی غفلت کی وجہ سے بچوں کی قیمتی جانیں چلی جاتی ہے یا پھر بچے معذور ہوجاتے ہیں اس چیز کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے اور ایسے حادثات کا سبب بننے والی گاڑیوں اور ڈرائیوروں کیخلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔ ڈی آئی جی ہزارہ نے ڈی پی اوز کو یہ بھی ہدایت جاری کی کہ وہ سکول سربراہان کو سختی سے اس بات کا پابند بنائے کہ وہ سکول ڈیوٹی کرنیوالی گاڑیوں کی فٹنس کو بھی چیک کروائے اورمین شاہراہوں پر واقع سکولز گاڑیوں کی پارکنگ کا مناسب بندوبست کریں تاکہ سکول کے بچے پارکنگ سے گاڑیوں سے اتر اور سوار ہوسکیں۔ڈی آئی جی نے مزید کہا کہ والدین بھی سکول جانے والے معصوم بچوں پر خصوصی نظر رکھے اور گاڑیوں میں سکول جانیوالے بچوں کو خود گاڑیوں میں سوار کریں اور ایسے غفلت کے مرتکب ڈرائیوروں کیخلاف پولیس کو جلد شکایت درج کرائے تاکہ بچوں کی قیمتی جانوں سے کھیلنے والوں کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جاسکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں