کورونا کی روک تھام کی ایس او پی ز کی خلاف ورزی کرنے والے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو فورا ً سیل کر دیا جائےکمشنر ہزارہ ڈویژن ریاض خان

کمشنر ہزارہ ڈویژن ریاض خان محسود نے ہزارہ بھر کے ڈپٹی کمشنروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت کی جانب سے وضع کرایس اوپی ز(احتیاطی تدابیر) پر سختی سے عمل کراتے ہوئے اس امرکویقینی بنائے کہ تمام ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے ملازمین اور سیاہ کورونا وائرس سے محفوظ ہیں اور اس مقصد کے لیے ملازمین اور سیاحوں کے ٹیسٹ لئے جائیں۔ انہوں نے کہاکورونا کی روک تھام کی ایس او پی ز کی خلاف ورزی کرنے والے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو فورا ً سیل کر دیا جائے اور سیاحتی مقامات پر 14 اگست سے قبل اشیاء خوردنی اور ہوٹلز وغیرہ کے ریٹ مقرر کر کے نرخوں کی پابندی یقینی بنانے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر چیکنگ کی جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ تمام علاقوں میں آٹا چینی سمیت ضروری اشیائے خوردنی کی مقررہ نر خوں اور معیار کے مطابق صارفین کو فراہمی بھی یقینی بنائی جائے اورٹمبرمافیایا غیر قانونی طور پر درخت کاٹنے والے کسی بھی فرد کو فورا گرفتار کیا جائے اور ان سے کوئی زو رعایت نہ کی جائے۔ یہ ہدایات انہوں نے پیر کے روز چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا کے ویڈیو لنک اجلاس کے بعد ہزارہ بھر کے ڈپٹی کمشنروں کو جاری کیں۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر ایبٹ آباد مغیث ثناء اللہ، ڈی سی مانسہرہ اورنگزیب حیدر،ڈی سی ہری پور ندیم ناصر کے علاوہ تورغر، بٹگرام، کوہستان لوئر، کوہستان اپر اور کولائی پالس کے ڈپٹی کمشنروں اور دیگر بھی موجود تھے۔کمشنر ہزارہ نے کہا کہ آئندہ انسداد پولیو مہم میں ہزارہ ڈویژن کے لئے مقرر کیے گئے ٹارگٹ کو پورا کرتے ہوئے ہر پانچ سال تک کے بچے کو انسداد پولیو کے قطرے ضرور پلائے جائیں۔ تمام ڈپٹی کمشنر اپنے اپنے اضلاع کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز اورای پی آئی کوا ڈینیٹرز سے رابطہ رکھیں۔انہوں نے کہا کہ ڈینگی وائرس کی روک تھام کے لیے بھی تمام ڈپٹی کمشنر اپنے اپنے اضلاع میں محکمہ صحت کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر مانسہرہ کو ہدایت کی کہ وہ دریا کنہار پر موجود تجاوزات ہٹانے کا کام فوری شروع کریں۔انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے ضلع میں 14 اگست کو جشن آزادی کے پروگرام کے لئے بھرپو ر طریقے سے تیاری کریں۔ کمشنر ہزارہ نے کہا کہ رو ٹی کی قیمت، وزن اور کوالٹی کو روزانہ کی بنیادوں پر چیک کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ غیر قانونی جنگل کی کٹائی کی روک تھام کے لیے مقامی سطح پر انتظامیہ اورمحکمہ جنگلات کی مشترکہ کمیٹیاں بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ٹیکس حکومت کے مقرر کردہ شرح کے مطابق لئے جائیں اور پلاسٹک بیگ کا بھی مارکیٹ سے خاتمہ کیا جائے۔اجلاس میں مون سون شجرکاری مہم،تجاوزات،انسداد پولیومہم،ڈینگی،پرائس کنٹرول، پلاسٹک بیگ پر پابندی،غیر قانونی جنگلات کی کٹائی، کلین اینڈ گرین پاکستان، سیاحتی مقامات پر کورونا ایس او پی ز کی پابندی، وزیراعظم ہاؤسنگ سکیم کے لئے اسٹیٹ لینڈ، کھلی کچہریوں کا انعقاد، ریونیو ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن،آٹا چینی کی اسمگلنگ کی روک تھام اور حکومت کے مقرر کردہ نرخوں پر خوردنی اشیا ء کی عوام کو فراہمی، 14 اگست کو جشن آزادی کے حوالے سے تیاریوں اور دیگر امور سے متعلق ڈپٹی کمشنر وں کی جانب سے ایک تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں