وفاقی محکموں میں معلومات تک رسائی کے قانون 2017 کی منظوری

ایبٹ آباد: وفاقی محکموں میں معلومات تک رسائی کے قانون 2017 کی منظوری ہو چکی ہے ،قانون کے تحت وفاقی محکموں کی جانب سے معلومات فراہم نہ ہونے پر پاکستان انفارمیشن کمیشن نے 1270درخواستوں میں سے 7سو سے زاہد کو نمٹا دیا ہے،قانون کے تحت تمام وفاقی محکمے درخواست گزار کو 10روز میں معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں تاخیر کی صورت میں پاکستان انفارمیشن کمیشن کو اپیل بھیجنے پر 60 روز کا وقت مقرر ہے،ان خیالات کا اظہار ایبٹ آباد پریس کلب میں پاکستان انفارمیشن کمیشن کے ممبران زائد عبداللہ ،فواد ملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر کمیشن کے رجسٹرار اکرام الحق،صدر ایبٹ آباد پریس کلب سردار نوید عالم ،جنرل سیکرٹری سردار محمد شفیق کے علاوہ دیگر عہدیدران اور ممبران بھی موجود تھے،پاکستان انفارمیشن کمیشن کے اراکین کا کہنا تھا معلومات تک رسائی کا حق ہر شہری کو حاصل ہے،وفاقی محکموں سے معلومات حاصل کرنے کا یہ قانون 20170سے نافذ العمل ہے،جس کے تحت ہر ادارہ 10روز میں معلومات دینے کا جوابدہ ہے،جس کے تحت غیر ضروری تاخیر اور معلومات کو روکنے پر مجاز افسر کے خلاف 100 دن کی تنخواہ بطور جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ کوئی بھی شہری مجاز افسران کی جانب سے معلومات نہ دینے پر پاکستان انفارمیشن کمیشن کو اپیل کر سکتا ہے جس کے لئے کمیشن کی ویب سائٹ پر سہولت فراہم کی گئی ہے ،انہوں نے کہا کہ کمیشن باختیار ہے جس کو معلومات کی عدم فراہمی خلاف ورزی پر احکامات کی توہین پر بھی کاروائی کا حق حاصل ہے ،انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تحقیقی صحافت کے لئے اس قانون سے استفادہ حاصل کرنا ممکن ہے،تاکہ عوام تک تمام حقائق کو لایا جا سکے،کمیشن کے اراکین نے صحافیوں کے بھی مختلف سوالات کے جوابات بھی دیئے اور اس قانون کو استعمال میں لانے کے لئے آگاہی بھی دی ۔

information-act-2017

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں