یکجہتی کشمیر کو حوالہ سے ہری پور یونیورسٹی میں کشمیر کانفرنس کا انعقاد

ہری پور یونیورسٹی میں آج کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جو یکجہتی کشمیر کو حوالہ سے منائے گئے ہفتہ کشمیر کے سلسلہ کی آخری تقریب کشمیر کانفرنس تھی۔ تقریب کے مہمان خصوصی صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان تھے۔ تقریب میں وائس چانسلر آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی اور ان کے ساتھ یونیورسٹی کے ڈینز ، اساتذہ اور رجسٹرار شریک ہوئے۔ تقریب میں ان کے علاوہ ممبر صوبائی اسمبلی اور ممبر سینیٹ ہری پور یونیورسٹی ارشد ایوب خان ، ممبر سینڈیکیٹ جسٹس ریتائرڈ نثار حسین خان اور ہری پور چیمبر آف کامرس کے نائب صدر امجد چغتائی اور دونوں یونیورسٹیوں کے طلباء اور اساتذہ نے شرکت کی۔ کانفرنس کے آغاز سے پہلے مہمانوں نے یونیورسٹی کی گرین گرین پاکستان شجرکاری مہم کے تحت پودے لگائے۔ اس مہم کے تحت اس سے قبل ڈی آئی جی ہزارہ میر واعظ نیاز، ڈپٹی کمشنر کیپٹن ریٹائرڈ ندیم ناصر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کاشف ذوالفقار نے بھی پودے لگائے تھے۔

تقریب میں صدر آزاد کشمیر نےہری پور یونیورسٹی میں کشمیر ڈیسک کا افتتاح کیا۔ اس ڈیسک کے تحت مسئلہ ء کشمیر سے متعلق تعلیمی و تحقیقی میدان میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پراجیکٹس کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ آج کی تقریب کی ایک اور خصوصی بات یہ تھی کہ ہری پور یونیورسٹی اور آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے ، جس کے تحت دونوں یونیورسٹیوں کے اشتراک سے تعلیمی اور تحقیقی میدان میں مختلف پراجیکٹس کیے جائیں گے۔

پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر ہری پور یونیورسٹی پروفیسر انوارالحسن گیلانی نے سب سے پہلے مہمان خصوصی صدر آزاد جموں و کشمیر ، وائس چانسلر آزاد کشمیر یونیورسٹی ، ارشد ایوب خان اور تمام شرکاء کا دلی شکریہ ادا کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مقامی سیاسی قیادت، انتظامیہ، سول سوسائٹی اور میڈیا کا بھی شکریہ اد کیا جن کے بھر پور تعاون سے ہری پور یونیورسٹی آج دن دونی اور رات چوگنی ترقی کررہی ہے۔ کشمیر اورآج کی تقریب کے حوالہ سی انہوں نے کہا کہ جب سے انہوں نے وائس چانسلر کے آفس کا چارج سنبھالا تو انہوں نے کشمیر اور مسئلہ کشمیر کو ترجیحی بنیادوں پر یونیورسٹی کی پالیسی کا حصہ بنایا ہے۔ جس میں یونیورسٹی کے داخلوں اورتحقیقی کاموں میں، ماہرین کی تعیناتی اور باہمی مفاہمت کی یاداشتوں میں کشمیر کو قابل ذکر حصہ دیا جانا اس یونیورسٹی کی پالیسی کا حصہ ہے اور ان شاء اللہ رہے گا۔
وائس چانسلر آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد کلیم عباسی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن ان کے لیے بہت یادگار ہے کیونکہ وہ خود ہری پور یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے ہیں اور یہاں کے سٹاف اور طلباء کے ساتھ ان کا بہت اچھی یادیں وابستہ ہیں۔ انہوں نے دونوں یونیورسٹیوں کے مابین ایم او یو کو ایک بہترین نکتہ ء آغاز قرار دیا اور اس حوالہ سے انہوں نے اپنی یونیورسٹی کے ریسورسز کو مکمل فراخدلی سے پیش کیا۔

پروگرام کے مہمان خصوصی صدر آزاد جموں و کشمیرنے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہری پور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو آج کی کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر مبارک باد دی اورشکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خوش قسمتی رہی ہے کہ وہ پاکستان کی وزارت خارجہ سے منسلک رہے ہیں جہاں انہیں امریکہ چائنہ اور اوقوام متحدہ میں پاکستان کا سفیر رہنے کا اعزاز حاصل رہا۔ انہوں نے بڑی خوبصورتی سے کشمیر، مسئلہء کشمیر اور پاکستان اور پاکستان کو دشمنوں کی ریشہ دوانیوں پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے براہ راست تجربات کی روشنی میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو اپنے پلے باندھ لیں کہ پاکستان دنیا میں ایک بڑی اہمیت کا حامل ملک ہے اور بین الاقوامی برادری عالمی معاملات میں پاکستان کو شامل کیے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرتی ہے اور نہ کرسکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوا م کشمیر معاملہ میں اپنا وقت یا وسائل دےرہے ہیں جبکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام اپنا خون پیش کررہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی عوام گزشتہ چوہتر برس سے صرف اپنی بقا کی نہیں بلکہ آزاد کشمیر اور پاکستان کی تکمیل کی جنگ بھی لڑ رہے ہیں انہوں نے بھارت کا پاکستان پر حملہ نہ کرنے کی پہلی وجہ پاکستان کی بہترین پیشہ ور فوج اس کی ایٹمی صلاحیت اور دوسری وجہ کشمیری عوام کی تحریک مزاہمت کو قرار دیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کی تکالیف کی بنیادی وجہ ان کا مسلمان ہونا ہے۔ اور جو مسلمان ہے وہ کشمیر جہاد کے ساتھ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنے تجربات کی روشنی میں اور صدر آزاد کشمیر کی حیثیت سے وہ ضرور کہیں گے کہ مسلمان اور اسلام کی حفاظت جہاد میں ہے، تاہم جہاد صرف اور صرف قتال کا نام نہیں ہے۔ بلکہ بحیثیت مسلمان مسلح تیاریوں کے ساتھ ساتھ ہمیں ہرہرشعبہ زندگی میں اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہوگا اور اس کے لیے منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔اس حوالہ سے انہوں نے کہا کہ بحیثیت کشمیری یا پاکستانی یا مسلمان انہیں اپنے حقوق کے حصول کے لیے دو باتوں کو مد نظر رکھنا ہوگا، اول اپنے آپ کو ان حقوق کا حقدار ثابت کرنا ہوگا اور دوم اپنے ھقوق چھین کر لینا ہونگے۔

تقریب کے آخر میں مہمانوں کو شیلڈز پیش کی گئیں

Kashmir conference at university of Haripur

President Azad Jammu & Kashmir

Azad Jammu & Kashmir university

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں