خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے ‘ڈیجیٹل مہارت کے ذریعہ خواتین کی خودمختاری’کے دوسرے مرحلے کا آغازکردیا


صوبے کی 500 خواتین کو کامیابی کے ساتھ ڈیجیٹل مہارت سے بہرہ مند کرنے کے بعد خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے مزید 2500 نوجوان خواتین کو تربیت دینے کے اگلے مرحلے کا آغاز کردیا جس سے وہ صوبے میں خاص طور پر اور ملک میں عام طور پر ڈیجیٹل معیشت میں اضافے کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کی اہلیت حاصل کریں گی۔یہ اقدام KPITB کے منصوبے “Digital Jobs in KP” کا ایک حصہ ہے جس کیلئے رجسٹریشن کی درخواستیں وصول کی جارہی ہیں۔
“ڈیجیٹل مہارت کے ذریعہ خواتین کو خود مختار بنانا” خیبر پختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ(KPITB) کے پروجیکٹ خیبر پختونخوا میں ڈیجیٹل جابز کا حصہ ہے جس کو ورلڈ بینک کے زیرانتظام ملٹی ڈونر ٹرسٹ فنڈ کے ذریعہ فنڈ ز فراہم کئے جاتے ہیں اور اسے
DEMO and TechValley پاکستان کے تحت چلایا جارہا ہے۔پروگرام کا مقصدخیبر پختونخوا کے سات ڈویژنز بشمول نئے شامل ہونے والے اضلاع میں 3000 خواتین کوقابل ملازمت ڈیجیٹل مہارت کی تربیت دینا ہے تاکہ ڈیجیٹل معیشت میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا جاسکے۔
“ڈیجیٹل مہارت پروگرام کے ذریعہ خواتین کو خودمختار بنانے “کی کامیابی پر گفتگو کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیااللہ خان بنگش نے اس اقدام کی تعریف کی اور ایسے اقدامات اور ڈیجیٹل ایمپلائمنٹ سے فائدہ اٹھانے والی خواتین کی تعداد میں اضافے کیلئے حکومت کی کوششیں جاری رکھنے کا یقین دلایا۔انہوں نے خواتین کے آگے بڑھنے اور ڈیجیٹل معیشت میں اپنا کردار ادا کرنے کی حوصلہ افزائی کی۔ جناب بنگش نے مزید کہا کہ یہ پروگرام دوسر ے صوبوں کو تقلید کیلئے ایک مثال ہے۔ ان کا کہنا تھا،”ہمیں ازحد امید ہے کہ اس پروگرام سے پورے خیبر پختونخوا میں خواتین کیلئے مختلف جابز کے مواقع پیدا ہوں گے۔
منیجنگ ڈائریکٹرKPITB ڈاکٹر صاحبزادہ علی محمود نے “ڈیجیٹل مہارت پروگرام کے ذریعہ خواتین کو خودمختار بنانے “کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ خیبر پختونخوا کے کئی اقدامات میں سے ایک ہے جو نوجوان خواتین کی حوصلہ افزائی اور ان کو تعلیم دینے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت کو ڈیجیٹل طور پر ماہر افرادی قوت کی فراہمی کے لئے کئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر محمود نے مزید بتایا کہ یہ تربیتی پروگرام نمایاں طور پر نوجوان خواتین میں ڈیجیٹل مہارت میں اضافہ کریں گے اور ان کو آمدنی کے حصول کے مواقع فراہم کریں گے۔
۔ ۲ ۔
پشاور کی رہائشی اور “ڈیجیٹل مہارت پروگرام کے ذریعہ خواتین کو خودمختار بنانے “کے پہلے مرحلے کی گریجویٹ مائرہ یوسف نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس نے سوشل میڈیا مارکیٹنگ میں تربیت حاصل کی ہے، اس کا کورس بہت اچھی طرح ترتیب دیا گیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ تربیت دینے والوں کے ساتھ دوطرفہ لائیو سیشنز کے ذریعہ ان کو سوشل میڈیا مارکیٹنگ کے بارے میں بنیادی اور ایڈوانسڈ معلومات حاصل ہوئیں۔ “انہوں نے مجھ کو صحیح صلاحیتوں سے آراستہ کیا جس نے مجھے اس شعبہ میں کام کا آغاز کرنے میں مدد دی”۔
کے پی میں ڈیجیٹل جابز کے پروجیکٹ منیجرمحمد بلال نے انکشاف کیا کہ 18سے 30 سال تک عمرکی خواتین، جو کے پی کے ڈومیسائل کی حامل ہیں اور کم از کم انٹر میڈیٹ کی تعلیم حاصل کرچکی ہوں اس تربیتی پروگرام کیلئے درخواست دینے کی اہل ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ “ڈیجیٹل مہارت پروگرام کے ذریعہ خواتین کو خودمختار بنانے “کے پروگرام کا دوسرا مرحلہ بھی آن لائن یا آن کیمپس ٹریننگ پر مشتمل ہوگا جو COVID-19 کی صورتحال پر مبنی ہے۔ درخواست گزار خو کو درج ذیل ڈیجیٹل صلاحیتوں میں سے کسی ایک کیلئے رجسٹر کرواسکتے ہیں جو اس وقت پیش کی جارہی ہیں؛ یعنی سوشل میڈیا مارکیٹنگ، گرافک ڈیزائننگ، ورڈ پریس ڈیزائن اینڈ ڈیولپمنٹ،بلاگنگ اینڈ کنٹیکٹ رائیٹنگ اور ڈیجیٹل ٹولز پروڈکٹویٹی شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں