Mushahid outlines Cyber Security Strategy

Mushahid outlines Cyber Security Strategy, urges a troika of public-private-academia partnership for cyber secure Pakistan

Islamabad (February 19, 2015): Chairman of Senate Defence Committee, Senator Mushahid Hussain, has underlined the need for a cyber security strategy for Pakistan, since cyber warfare is an emerging security threat. He was giving a keynote speech at the launch of a book on Cyber Security by Dr Tughral Yamin at National University of Science & Technology (NUST).

Appreciating the book, a rare endeavour on such a specialised subject in Pakistan, Senator Mushahid Hussain referred to the role of the Senate Defence Committee which had recognised cyber warfare as an emerging security threat way back in 2012, organised a Cyber Security Task Force, promoted awareness through a Media Manual for press reporters, prepared legislation and presented contours of the first-ever Cyber Security Strategy for Pakistan, all initiatives which were unprecedented.

Among the key components of a Cyber Security Strategy for Pakistan, Sen Mushahid listed the need for legislation, establishing a Computer Emergency Response Team (CERT), a Joint Inter-Services Cyber Defence Command, and Cyber ‘rules of the game’ within SAARC framework between Pakistan and India to ensure that neither side engages in cyber warfare against the other or does hacking of each other’s websites.

In this regard, Senator Mushahid Hussain said that Pakistan currently lacked both an awareness and a comprehensive cyber security strategy, and there was no focal point or a lead institution in this regard. He said the need of the hour was to have a troika of partnership amongst the government, private sector and academia, so that the best brains can collectively contribute to building a cyber secure Pakistan.

He said Pakistan’s importance was evident from the revelations of Edward Snowden who had exposed the U.S. National Security Agency spying on various countries in which the top three victims were Pakistan, Iran and China.

He praised NUST as one of the premier, quality academic institutions of Pakistan, where some of the brightest and most creative women and men, were studying and such talented youth could provide the expertise and backbone for Pakistan’s cyber security strategy, he concluded.

NUST Rector, Dr Muhammad Asghar, praised the role of Senate Defence Committee in leading the efforts for cyber security in Pakistan.
mushaid hussain

سائبر حملوں سے بچاؤ کیلئے ٹھوس حکمت عملی ناگزیر، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ اور تعلیمی اداروں کا باہمی تعاون وقت کی ضرورت ہے، پاک بھارت ایک دوسرے کی ویب سائٹس پر حملوں سے گریز کریں، سینیٹر مشاہد حسین سید کا ڈاکٹر طغرل یامین کی تصنیف کردہ کتاب کی تقریبِ رونمائی سے کلیدی خطاب

اسلام آباد (19فروری2015ء): سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید نے سائبر خطرات کو ملکی سلامتی کو لاحق سنگین خطرہ گردانتے ہوئے سائبر سیکورٹی حکمتِ عملی کے تعین پرزور دیا ہے۔انہوں نے جمعرات کو نسٹ یونیورسٹی کے زیراہتمام سائبر سیکیورٹی کے موضوع پر لکھی ڈاکٹر طغرل یامین کی تصنیف کردہ کتاب کی تقریبِ رونمائی سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایڈوارڈ سنوڈن کے انکشافات سے معلوم ہوتا ہے کہ چین ایران اور پاکستان امریکی سلامتی کے قومی ادارے کی جانب سے انٹرنیٹ پر جاری جاسوسی کے سب سے زیادہ شکار ہیں۔ سینیٹر مشاہد نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ پاکستان کو انٹرنیٹ کی دنیا میں خطرات سے محفوظ رکھنے کیلئے موثر قانون سازی، کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم ، جوائنٹ انٹر سروسز سائبر ڈیفنس کمانڈکا قیام ناگزیر ہے جبکہ پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں جنوبی ایشیا کے دونوں ممالک کو علاقائی تنظیم سارک کے فریم ورک کے تحت ایک دوسرے کی ویب سائٹس پر ہیکنک حملے ترک کرنے چاہیے۔ اس موقع پر شرکاء کو آگاہ کیاگیا کہ سینیٹر مشاہد حسین کی زیرقیادت سینیٹ ڈیفنس کمیٹی نے 2012 ؁ء ہی میں سائبر حملوں کو غیرروائتی خطرہ قرار دیا تھا اور اس سلسلے میں مختلف اقدامات عمل میں لائے جارہے ہیں جن میں سائبر سیکیورٹی ٹاسک فورس کا قیام، قانون سازی میں پیش رفت اور ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ سائبر سیکیورٹی آگاہی کتابچے کی اشاعت شامل ہیں۔ انہوں نے نسٹ یونیورسٹی کی تعلیمی میدان میں خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے ملک بھر میں آگاہی کے فروغ اور ٹھوس حکمتِ عملی کے تعین کیلئے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے تعاون سے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ناگزیر ہے، ریکٹر نسٹ یونیورسٹی ڈاکٹر محمد اصغر نے بھی اپنی تقریر میں سینیٹ ڈیفنس کمیٹی کے مختلف اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔

کیٹاگری میں : News

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں