ایک ملین لوگوں کے لئے اوکسفرڈ ایسٹرا زینکا کووِڈ – 19 ویکیسن کی مقدار آج پاکستان کو فراہم کردی گئی

پاکستان کو کوویکس فیسلٹی کے ذریعے کووِڈ 19 کی پہلی کھیپ فراہم کردی گئی

ایک ملین لوگوں کے لئے اوکسفرڈ ایسٹرا زینکا کووِڈ – 19 ویکیسن کی مقدار آج پاکستان کو فراہم کردی گئی ہے

اسلام آباد، 8 مئی 2021 – آج پاکستان کو کو ویکس سہولت سے اوکسفرڈ-اسٹرازینکا کووِڈ -19 ویکسین کی پہلی کھیپ موصول ہوئی۔

ویکسین کی 12 لاکھ 38 ہزار 400 افراد کے لئے ویکسین کی کھیپ ہے جس کے بعد چند دنوں میں 12 لاکھ 36 ہزار افراد کے لئے مزید ویکسین پاکستان پہنچ جائے گی جو پہلے سے جاری تاریخی مہم کی کامیابی میں ایک اہم کردار ادا کرے گی۔ جون کے بعد سے مزید مختص شدہ ویکسین کی تصدیق مناسب وقت پر کر دی جائے گی۔ کو ویکس فیسیلیٹی کا مقصد پاکستان کی 20 فیصد آبادی کو ویکسین دینے کے لئے کافی خوراک فراہم کرنا ہے۔

نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے ہیڈ کوارٹرز میں سی او وی اے ایکس ٹیکنیکل اور فنڈنگ پارٹنرز کے نمائندوں کے ساتھ مل کر اس پہلی کھیپ کا خیرمقدم کیا۔
نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشنپر وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ اس غیر معمولی بحران میں جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ہم پاکستان میں کووِڈ 19 سے لڑنے کی اجتماعی کوششوں میں کو ویکس کے تعاون کو تہہ دل سے سراہتےہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض اوقات اس طرح کے بحران جدت لانے کے عمل کو آگے بڑھاتے ہیں اور اس مقصد کے لئے ہم اپنی آبادی کو کووڈ کی ویکسین لگانے کے لئے ای پی آئی کی سہولیات کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ حال ہی میں، ہم اپنے مراکز میں ایک دن میں تقریبا 200,000 افراد کو ویکسین کے ٹیکے لگا رہے ہیں اور ہم بہت جلد یومیہ 0.5 ملین افراد کو ویکسین دینے کے قابل ہو جائیں گے۔ میں 40 سال سے زیادہ عمر کے ہر شخص سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ویکسین لگوانے کے لئے اپنا اندراج کرائے تاکہ ہم اپنے ہم وطنوں خاص طور پر زیادہ خطرات سے دوچار اور کمزور افراد میں شمار ہونے والے شہریوں کو ٹیکہ لگانے کا اپنا مشن جاری رکھ سکیں۔ ہم بہت جلد اس مہم کو دیگر عمر کے افراد اور لوگوں کے لئے بھی وسعت دے پائیں گے۔

اوکسفرڈ اسٹرازینکا ویکسین حکومت پاکستان کی جانب سے خریدی گئی ویکسین میں شامل ہوکر ویکسین کی کمی کو پورا کرے گی اور نیشنل کمانڈ آپریشن سینٹر کی قیادت میں تیار کردہ نیشنل ڈیپلائمنٹ اینڈ ویکسینیشن پلان میں شناخت شدہ فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز، بزرگ شہریوں اور دیگر ترجیحی گروپوں کو ویکسین لگانے کی مہم کو مزید تقویت دینے میں بے حد مدد گار ثابت ہو گی۔
صحت کی دیکھ بھال کرنے والے عملے اور شہریوں کو بڑے پیمانے پر 3.3 ملین سے زیادہ ویکسین کا ٹیکہ لگایا جا چکا ہے۔ وزارتِ صحت نے ویکسین کی فراہمی کے منصوبے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے پاکستان میں لوگوں کو ویکسین دینے کے حفاظتی ٹیکوں کے وسیع پروگرام میں کولڈ چین مینجمنٹ کے نظام بھی توسیع کی ہے اور اس وقت تک 15 بڑے شہروں میں الٹرا کولڈ چین کی سہولیات کو شامل کیا گیا ہے۔
فی الحال 40 سال سے زائد عمر کے شہری آسان طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے اپنا اندراج کرانے کے بعد ویکسین کا ٹیکہ لگوا سکتے ہیں اور 50 سال سے زیادہ عمر کے شہری بھی قریبی مرکز صحت میں جاکر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ کچھ اضلاع میں بزرگ شہریوں کے لئے گھر پر ویکیسن لگانے کی خدمات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔ پاکستان میں اب تک سینوفارم، سینوویک، کینسینو بائیو اور اسپوٹنک ویکیسن لگائی جاچکی ہے۔
اوکسفرڈ-اسٹرازینکا کووِڈ -19 ویکسین کی 2.47 ملین خوراکوں کا استعمال تقریبا 1.24 ملین زیادہ خطرات سے دوچار افراد کو وائرس سے بچانے کے لئے استعمال میں لائی جائے گی۔
اوکسفرڈ-اسٹرازینکا کی کووِڈ -19 ویکسین اوکسفرڈ یونیورسٹی کے تعاون سے تیار کی گئی تھی اور اسے اسٹرازینکا اور کووی شیلڈ نے تیار کیا ہے، جسے اسٹرازینکا-ایس کے بائیو سائنس (اے زیڈ-ایس کے بائیو) آئیاین جنوبی کوریا نے لائسنس جاری کیا اور تیار کیاہے۔ ویکسین کے محفوظ ہونے اور اس کی افادیت کو یقینی بنانے کے لئے اسے سخت تحقیقی عمل سے گزرا ہے اور عالمی ادارہ صحت کی طرف سے اسے عالمی سطح پر لگانے کی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی ادارہ صحت حکومت پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے جو اس نئے وائرس سے نبرد آزما ہونے کی تیاری، روک تھام، وائرس کا سراغ لگانے اور اس کا جوابی لائحہ عمل تشکیل دینے کے لئے درکار تکنیکی رہنمائی اور جدید ترین آلات فراہم کر رہا ہے۔ آج ہمیں کووِڈ -19 ویکسین ملنے پر بے حد خوشی ہے ۔ یہ ویکسین ہمیں غیر ضروری تکلیف سے محفوظ اور اس کی موثر طریقے سے روک تھام کے قابل بنائے گی۔ پاکستان میں عالمی ادارہ صحت کی نمائندہ ڈاکٹر لیتھا گنارتھنا مہیپالانے کہا کہ یہ ویکسین کئی کلینیکل ٹرائلز سے گزرچکی ہے اور اس کے بعد ہی اسے پاکستان اور دنیا بھر میں استعمال کرنے کی منظوری دے دی گئیہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت ڈبلیو ایچ او کی توجہ اس وبا کے خاتمے کے لیے پاکستان کی بھرپور معاونت پر مرکوز ہے اور اس میں ویکسین کی نئی کھیپ اور صحت عامہ کے اقدامات بھی شامل ہیں جو 15 ماہ سے کووڈ کے جوابی ردِ عمل کے طور پر جاری ہیں۔ ہم حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے اس بات کو یقینی بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے کہ اس ویکسین کو پورے پاکستان میں تیزی سے استعمال میں لایا جائے گا اور ہمارے ہیلتھ کیئر ورکرز کو کووِڈ -19 وبا کے خلاف جنگ کے دوران ان کی محنت اور لگن کو دیکھتے ہوئے تیزی سے استعمال میں لائی جائے۔

کو ویکس ایک عالمی شراکت داری کا نام ہے جس کی قیادت عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کررہا ہے اور یہ سب گاوی، ویکسین الائنس؛ اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ(یونیسیف) کے ساتھ ساتھ وبائی تیاری و اختراعات (سی ای پی آئی) کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن بنایا جارہا ہے اور شراکت دار حکومتوں، فاؤنڈیشنز اور نجی شعبے کی کارپوریشنوںکے فیاضانہ عطیات کی مدد سے اس شراکت کی مالی معاونت کی جاتیہے۔

کو ویکس سہولت کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ آمدنی کی سطح سے قطع نظر دنیا بھر کے تمام ممالک کو محفوظ، موثر کووِڈ -19 ویکسین کی تیز رفتار دستیابی کو یقینی بنایا جائے تاکہ وبا کے پھیلاؤ شدید ترین مراحل کے دوران وائرس کو جلد از جلد ختم کرنے میں مدد مل سکے۔ اس کا مقصد 2021 کے آخر تک منظور شدہ کووِڈ -19 ویکسین کی کم از کم 2 ارب خوراکیں فراہم کرنا ہے جس سے فرنٹ لائن ہیلتھ کیئر اور سماجی کارکنوں کے ساتھ ساتھ دیگر ہائی رسک اور کم قوتِ مدافعت کے حامل گروہوں کا تحفظ ممکن ہو سکے گا ۔ اس طرح موجودہ مہم لوگوں کو وائرس سے محفوظ بنانے کے لئے تاریخ کی سب سے بڑی ویکسین لگانے کی مہم ہوگی۔

“یونیسیف کو اس بات پر فخر ہے کہ وہ کو ویکس کی مدد سے محفوظ، موثر اور سستی کووِڈ -19 ویکسین کی خریداری اور فراہمی کی کوششوں کی قیادت کر رہا ہے۔ یہ عالمی شراکت داری ہمیں اس قابل بنائے گی کہ ہم کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے لوگوں تک تیزی سے ویکسین پہنچا سکیں اور ہم اس بات کو یقینی بنا سکیں گے کہ دنیا میں کسی کو کورونا وائرس کا خطرہ لاحق نہ رہے۔ ہمیں فخر ہے کہ ہم نے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر ملک میں اوکسفرڈ استرازینکا کووِڈ -19 ویکسین کے اس پہلے بیچ کو لانے کے لئے کام کیا ہے اور ہم مزید مقدار لانے پر کام کر رہے ہیں جو حکومت کی جانب سے خریدی جانے والی ویکسین میں اضافے کا باعث بنے گی۔ پاکستان میں یونیسیف کی نمائندہ محترمہ عائدہ گیرمانے کہا کہ ہم حکومت، ڈبلیو ایچ او، جی اے وی آئی اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں وائرس سے شدید بیماری میں مبتلا ہونے والوں اور زیادہ خطرے سے دوچار افراد کو ویکسین لگانے اور قومی ویکسینیشن مہم کے رول آؤٹ پر عمل درآمد کے لئے چوبیس گھنٹے کام کریںگے۔ ہماس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک ہم آبادی کے تمام کمزور ترین طبقات کو ویکسین نہیں دے پاتے۔ اس کے علاوہ ، یہ انتہائی اہم ہے کہ لوگ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے تحفظ اور وائرس کی منتقلی کو کم کرنے میں مدد کے لئے حفاظتی اقدامات پر عمل کریں۔
پاکستان کے لئے گاوی سینئر کنٹری منیجر الیکسا رینالڈز نے کہا کہ یہ ترسیل – اس سلسلے کی اولین – مگر غیر معمولی عالمی شراکت داری کی پیداوار ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کووِڈ -19 ویکسین کے حصول کے لئے عالمی دوڑ میں کوئی ملک پیچھے نہ رہ جائے۔ یہ ویکسین محفوظ ہیں، یہ موثر ہے اور یہ اس وبا کے خاتمے میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گی۔

پاکستان میں وبا پھیلنے کے آغاز سے اب تک کووِڈ -19 کے 8لاکھ 50ہزار 131 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور اب تک 18ہزار 677 افراد اس بیماری کا شکار ہو چکے ہیں۔

کورونا وائرس کے خلاف اہم احتیاطی اقدامات میں کم از کم 20 سیکنڈ تک باقاعدگی سے صابن سے ہاتھ دھونا یا سینیٹائزر کا استعمال کرنا؛ ماسک پہننا؛ دوسرے لوگوں سے کم از کم چھ فٹ کے فاصلے پر رہنا؛ پر ہجوم مقامات پر جانے سے پرہیز کرنا؛ اور کووِڈ -19 علامات ظاہر ہونے کی صورت میں گھر میں رہنا شامل ہیں۔
کوویکس کے تکنیکی اور فنڈنگ شراکت دار وبا کے ذریعے حکومت کے ساتھ کام جاری رکھیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ کوئی پیچھے نہ رہے۔

مندرجہ ذیل سفارتی مشنز اور کو ویکس کو عطیات فراہم کرنے والوں نے ویکسین کی کھیپ وصول کرنے کی تقریب میں شرکت کی:

پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر محترمہ اینڈرولا کامینارا نے کہا کہ ہم حکومت پاکستان کے ساتھ ٹھوس یکجہتی کے اظہار اور ویکسین کی اس اہم ترسیل کے ذریعے کورونا وائرس سے لڑنے کی کوششوں کی حمایت کرنے کے اس سلسلے کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ ہمیں اپنے شراکت داروں کے ساتھ عالمی کو ویکس اقدام میں اپنا کردار ادا کرنے پر فخر ہے کیونکہ اس سے ان کوششوں کی تکمیل میں مدد ملتی ہے جہاں ویکسین کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال ایس او پیز پر عمل کرنے کی بے حد ضرورتہے۔
امریکی سفارت خانے کی چارج ڈی افیئرز انجیلا پی ایگلر نے کہا کہ امریکہ اسٹرازینکا کووِڈ -19 ویکسین کی 12 لاکھ افراد کے لئے ویکسین کی پاکستان میں کامیاب آمد کا بھرپور خیرمقدم کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم دنیا کی سب سے زیادہ خطرے سے دوچار آبادیوں کی ویکسین تک رسائی میں مدد کے لیے دو طرفہ اور کثیر الجہتی انداز میں کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس وبا نے شراکت داری کی اہمیت کو ظاہر کیا ہے مثلا امریکہ اور پاکستان کے درمیان دیرینہ شراکت داری جس نے ہمیں صحت کے اس بحران کا مل کر اور زیادہ موثر انداز میں جواب دینے کے قابل بنایا ہے۔
برطانوی ہائی کمشنر ڈاکٹر کرسچن ٹرنرنے کہا کہ مجھے اوکسفرڈ یونیورسٹی کی طرف سے تیارکردہ اسٹرا زینیکا ویکسین تیار کرنے میں برطانیہ کے کردار پر فخر ہے جو پاکستان آج حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کو ویکس کی سہولت کے سلسلے میں تعاون کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملکوں میں ایک ہے۔ حکومت برطانیہ نے اس بات کو یقینی بنانے کے لئے 548 ملین پاؤنڈز کا عطیہ دیا تاکہ مختلف ممالک کو ان کی ضرورت کے مطابق ویکسین فراہم کی جا سکے اور ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔
پاکستان میں جرمنی کے سفارت خانے کے چارج ڈی افیئرز/ڈی ایچ ایم ڈاکٹر فلپ ڈیچمین نے کہا کہ پاکستان میں پہلے کو ویکس بیچ کی آج آمد اس وبا کے خلاف اجتماعی جنگ میں اہم سنگ میل کار درجہ رکھتی ہے۔ یہ کثیر الجہتی اور بین الاقوامی یکجہتی کی ایک روشن دلیل ہے۔ جرمنی کو دوسرے سب سے بڑے عطیہ دینے والے کی حیثیت سے 1.5 بلین یورو کا حصہ ڈالنے پر فخر ہے کیونکہ ہمیں یقین ہے: ویکسین تک جامع عالمی رسائی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور جب تک ہر کوئی محفوظ نہیں ہوتا کوئی بھی محفوظ نہیں ہے!

one million Vaccine received today

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں