پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک اور ہوپ نے کینٹ بورڈ سے سکولز بیدخلی کے فیصلے پر احتجاجی مظاہرہ

ایبٹ آباد: پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک اور ہوپ نے کینٹ بورڈ سے سکولز بیدخلی کے فیصلے پر احتجاجی مظاہرہ اور ریلی،فیصلے کو کالعدم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ،پرائیویٹ سکولز کی نمائندہ تنظیموں نے مشترکہ احتجاج کیا ۔لیڈی گارڈن سے ایبٹ آباد پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی ۔اس موقع سکولز کے اساتذہ والدین ،طلبہ ،ملازمین بھی شریک تھے ۔ اس موقع پر پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک اور ہوپ کے عہدیداران صدر نقیب اللہ خان جدون ،جنرل سیکرٹری راجہ قدیر اقبال ،ہوپ کے صدر طاہر خان آفریدی ،صوبائی نمائندے ملک عدنان اعوان کے علاوہ دیگر نے قیادت کی ۔مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ سپریم کورٹ میں کینٹ بورڈ کی حدود میں سکولز کی بیدخلی سے ایبٹ آباد میں 80ہزار سے زاہد طلباء وطالبات کے علاوہ ہزاروں برسر روزگار اساتذہ اور دیگر عملہ شدید متاثر ہوں گے۔مقررین کا کہنا تھا سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی رٹ دائر کی گئی ہے۔عدالت کے فیصلے سے ملک بھر میں لاکھوں بچوں بچیوں کو انتہائی مسائل کا سامنا ہوگا ۔مقررین کا کہنا تھا تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔پہلے بھی کروڑوں بچے سکولز سے بائر ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت درخت کے نیچے بھی سکولز کھولنے کی اجازت دیتی۔ تاکہ معاشرے کو تعلیم یافتہ بنانے میں سہولت میسر ہو ۔انہوں نے کہا کہ والدین اپنے بچوں کو گھر کے قریب تعلیم فراہم کرنے میں تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ شہر میں متبادل جگہ نہیں ہے ۔اگر گھر سے دور جنگل میں بچے گئے تو زینب جیسے واقعات کو کون روکے گا ۔ملک میں کون ایسے فیصلے کروا رہے ہیں۔جس سے تعلیم کو عام غریب گھرانوں کے بچوں سے دور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔صدر نقیب اللہ خان کا کہنا تھا کینٹونمنٹ بورڈ میں سکولز کی بیدخلی کے فیصلے پر لائحہ عمل طے کرکے متعلقہ ایم پی ایز سے ملے ۔سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور تیسرے مرحلے میں احتجاج کرنے پر مجبور ہو ئےہیں۔سکولز کے طلبہ اور والدین سمیت اساتذہ سڑک پر آرہے ہیں۔یہ بڑی بدقسمتی ہے ملک کا نظام ایسا ہے جس میں تعلیم ترجیحات میں نہیں ہیں۔اس موقع پر مظاہرین پلے کارڈ اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے جس میں چیف جسٹس آف پاکستان ،آرمی چیف اور وزیر اعظم سے فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔

PEN protest

Abbottabad

Private Education Network

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں