ہزارہ میں 4ہزار منظور اہلکاروں کی بھرتی آئندہ سال میں مکمل کی جائے گی: آئی جی خیبر پختون خوا معظم جاہ

ایبٹ آباد:انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختون خوا معظم جاہ انصاری نے کہا ہے کہ ہزارہ میں 4ہزار منظور اہلکاروں کی بھرتی آئندہ سال میں مکمل کی جائے گی۔ایٹا ٹیسٹ میں ویٹنگ لسٹ پر موجود 130 اہلکاروں کےسائیکالوجی ٹیسٹ کے بعد دسمبر سے قبل آرڈر جاری کریں گے۔نئے تھانہ جات کی منظوری آئی جی آفس کے دائرہ اختیار میں ہے ،وسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے قیام کو عمل میں لایا جائے گا ۔صوبہ خیبر پختون خوا کو منشیات کی لعنت سے پاک کرنے کے لئے اربوں روپے مالیت کی تاریخی برآمدگی کی ہے۔ملزمان کو قانون کے تحت سزائیں دلوانے کے لئے پراسکیوشن کیسز مضبوط کرنے کے لئے پولیس کی تمام کوتائیاں اور کمزوری دور کریں گے تاکہ ان کی ضمانتیں نہ ہو سکیں۔پولیس کے اندر اصلاحات میں رویوں کی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ جب کہ پولیس کے اسٹرکچر میں بہتری لائی گئی ہے جو خیبر پختون خوا کا ماڈل قانون ہے۔امن آمان کے لئے کے پی کے پولیس کی تاریخ قربانیوں سے رقم ہے۔امن کے قیام کو ممکن بنانے کے لئے 2ہزار جانوں کی قربانیاں دیں وطن لہو مانگے وہ دینے کو تیار ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں ریجنل پولیس آفیسر ہزارہ کے کانفرنس ہال میں میڈیا کو بریفنگ میں کیا ۔اس موقع پر آر پی او ہزارہ میر ویس نیاز،ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ظہور بابر آفریدی ،ایس پی ہیڈکواٹر عارف جاوید ،ایس ایس پی ٹریفک وارڈن ہزارہ قمر حیات خان بھی موجود تھے ۔انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختون خوا معظم جاہ انصاری کا کہنا تھا بیورو کریسی کی سست روی اور تاخیری حربےمشہور ہیں،ریکارڈ کاغذاتی مراحل طویل ہونے انکوائری اور الزامات سے بچنے کے لئے عدم دلچسپی پائی جاتی ہے۔منشیات کے خلاف پشاور سے شروع کی جانے والی مہم کو صوبہ کی سطح پر بڑھانے سے اربوں روپے مالیت کی تاریخی ریکوری ہوئی ہے ،خیبر پختون خوا پولیس نے 10 جولائی کے بعد 8ہزار کلو گرام چرس ،8 سو کلو گرام منشیات اور 4سو پچاس کلو گرام آئس برآمد کی ہے۔افغانستان اور چمن کے راستے منشیات کی ترسیل کو روکنے اور اس لعنت کو صوبے سے ختم کرنے کے لئے پولیس کی کوتاہیاں اور کمزوریاں دور کریں گے۔معظم جاہ انصاری کا کہنا تھا ہزارہ سی پیک گیٹ وے اور سیاحت کے حوالہ سے خطہ میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ہزارہ کے عوام کو بہتر سروس دینے کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لائے جا رہے ہیں نفری کی کمی کو پورا کرنے کے لئے 4ہزار منظور بھرتیوں کو آئندہ سال میں پر کریں گے ایبٹ آباد میں نئے تھانہ جات کے قیام میں مالی وسائل کی کمی آڑے آرہی ہے،انہوں نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل درآمد اور خیبر پختون خوا میں آؤٹ آف ٹرن ترقیوں کے حوالہ سے بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر سو فیصد عمل ہوتا ہے 2020 میں آنے والے فیصلہ پر متاثرہ افسران نے ہائیکورٹ سے حکم امتناعی حاصل کیا ہے جس کی سماعت 30 نومبر کو ہونا ہے۔جب کہ پولیس کے اعلی افسران کو سپریم کورٹ پر عمل نہ کرنے پر توہین عدالت کا نوٹس ملا ہوا ہے ۔کیونکہ ایک طرف سپریم کورٹ کا حکم اور دوسری جانب ہائیکورٹ میں حکم امتناعی اس کا سبب ہے۔انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختون خوا کا کہنا تھا پولیس کا کام ہر محکمہ کے ساتھ اور قانون کے نفاذ کی زمہ داری ہے۔صوبہ میں پولیو ڈیوٹی ،الیکشن ،امتحانات ،
بھرتیوں،بلدیاتی مسائل ،لینڈ مافیا سمیت قانون کا نفاذ کی زمہ داری پولیس کی ہے جو ملزموں مجرموں کے لئے انتہائی سخت اور مظلوم عوام کے لئے انتہائی نرم ہے۔داسو واقعہ پر پیش رفت کے متعلق انہوں نے بتایا کہ انڈیا یا اور کوئی ملک ملوث ہے تو اس پر ایکشن کے لئے انٹر نیشنل فورم موجود ہے تاہم شواہد کی بنیاد پر ملزمان کی گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔ہزارہ میں سیاحتی مقامات پر ٹوررازم فورس کے متعلق انہوں نے بتایا کہ قانون کے مطابق اس کی زمہ داری کلچرل اینڈ ٹوررازم ڈیپارٹمنٹ کی ہے۔خیبر پختون خوا پولیس کے دو افسران کو ڈیبوٹیشن پر بجھوایا ہے ان کو جہاں مذید بھی ضرورت ہوئی وہ تعاون کریں گے۔انہوں نے 2017 میں ایبٹ آباد کے لئے ٹریفک وارڈن کی پوسٹوں کی منظوری پر تعیناتیوں کو بھی یقینی بنانے کی حامی بھری ہے اور اس بات پر زور دیا کہ 33سال سروس کے دوران انہوں نے کبھی کسی دفتری کاروائی میں تاخیر نہیں کی اور روزانہ کی بنیاد پر ڈال کو گھر بیٹھ کے بھی مکمل کیا ہے۔انہوں نے پولیس میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے ڈیمانڈ کے مطابق ممکنہ وسائل فراہم کئے جا رہے ہیں ۔جس سے انفراسٹرکچر دوسرے صوبوں کی نسبت مثالی ہے تاہم پولیس کے اندر رویوں کی تبدیلی کی ضرورت ہے انہوں نے ہزارہ کے میڈیا کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی سدھار اور مسائل کو اٹھانے مثبت تنقید میں کردار اہمیت کا حامل ہے۔ایںٹ آباد میں جرائم کی شرح میں کمی قانون کا احترام کرنا ہے ،قبل ازیں آئی جی خیبر پختون خوا نے ہزارہ بھر کے تمام اضلاع کے ڈی پی اوز سے اجلاس میں سی پیک سیکورٹی ،اسلحہ منشیات ،اشتہاری،مفرور مجرمان کی گرفتاریوں کے حوالہ سے بھی خصوصی احکامات دیئے اور شہر میں امن امان کے قیام کی صورتحال کو جانچنے کے لئے ایبٹ آباد مین بازار کا دورہ بھی کرکے آل ٹریڈرز فیڈریشن کے عہدیدران سے ملاقاتیں کیں اور اس بات پر زور دیا کہ علماء ،آئمہ کرام لوگوں کی ذہنی تربیت کریں ان کو لوگوں کے اندر صبر برداشت ایک دوسرے کی بات سننے کی تلقین بھی کریں ۔خوائش ہے ربیع الاول میں جو واقعہ پیش آیا ہے وہ آئندہ نہ ہو ،انہوں نے کہا کہ ہم نے عزت کرنی ہے اور عزت کرانی ہے، امن دینا ہے اس کے لئے نہ پسینہ اور نہ خون کو دیکھنا ہے۔خیبر پختون خوا پولیس نے اپنی جان کی قربانی دیکر اور اپنا خون بہا کر اس صوبے کے عوام کو امن دیا ہے۔اس میں عوام کے تعاون کے بغیر کچھ ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ امن کے قیام کے لئے پولیس اور کوئی بھی سرکاری ادارہ عوام کی مدد کے بغیر نہیں چل سکتا ۔جب چلنا ہے عوام کے ساتھ اور ان کی مدد کے ساتھ چلنا ہے۔ائی جی خیبر پختون خوا کا کہنا تھا خیبر پختون خوا کی پولیس بڑی مثالی پولیس ہے۔ہزارہ کی پولیس بھی شاندار پولیس ہے اسی طرح ہزارہ کے لوگ بھی شاندار ہیں۔امن اور ملک کی ترقی کے لئے مل جل کر کام کریں گے۔آل ٹریڈرز فیڈریشن کی جانب سے آئی جی کے پی کے کو پھولوں کا گلدستہ بھی پیش کیا گیا ۔

Police Appointment in 2022 By IG KPK

KPK Police

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں