غربت، بھوک افلاس کا شکار ماں نے دو بچوں کو ایوب پل بالاکوٹ سے دریائے کنہار میں پھینک دیا

غربت، بھوک افلاس کا شکار ماں نے دو بچوں کو ایوب پل بالاکوٹ سے دریائے کنہار میں پھینک دیا،خود چھلانگ لگاتے ہوئے موقع پر موجود لوگوں نے پکڑ لیا، ایک سالہ ابو بکر کو مقامی تیراکوں نے بچا لیا جبکہ تین سالہ لقمان دریاے کنہار میں بہہ گیا ۔تفصیلات کے مطابق دن تین بجے کے قریب بالا کوٹ ایوب پل کے مقام پر مسماۃصائمہ بیوہ خان افضل ساکنہ حویلیاں نے اپنے دو بچوں لقمان اور ابوبکر کو دریا میں پھینک دیا اور خود بھی چھلانگ لگانے لگی تھی کہ مقامی لوگوں نے عورت کو پکڑ لیا جبکے غوطہ خور افراد نے ایک سالہ بچے کو دریا سے نکال لیا مقامی پولیس موقع پہ پہنچ گئ بچے کو بالا کوٹ ہسپتال میں ابتدائی طبعی امداد کے بعد مانسہرہ روانہ کر دیا گیا جبکہ تین سالہ لقمان کی تلاش جاری ہے پولیس کو صائمہ بیوہ خان افضل نے بتایا کے اس کی شادی چار سال قبل حویلیاں میں خان افضل سے ہوئی تھی اور اس کے والدین اج کل شنکیاری میں مقیم ہیں گرمیوں میں ناران تمتمہ میں رہتے ہیں شادی کے بعد دو بچے پیدا ہوئے اور خاوند ایک سال پہلے فوت ہو گیا پندرہ دن قبل اس گھر سے نکال دی گئ جس کے بعد والدین کے گھر چلی آئی جہاں سے چار دن قبل والدین نے بھی نکال دیا اور بالا کوٹ ترنہ بولی کے مقام پے ہوٹلوں کا بچا کھچا کھانا کھاتی اور بچوں کو کھلاتی رہی تین دن سے بولی سڑک پے سوتی رہی کسی نے نہ پوچھا آج تنگ آکر پہلے بچوں اور پھر خود کو ختم کرنا چاہتی تھی کے لوگوں نے پکڑ لیا، پولیس نے ملزمہ کو تحویل میں لیکر ایک سالہ ابوبکر جو کہ مانسہرہ روانہ کیا گیا کے ہمراہ پولیس کسٹڈی میں لیکر ایمبولینس میں روانہ کیا گیا

suicide in Balakot

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں