ملک طاہر اقبال قتل کیس میں ملوث ملزم فرمان اللہ نےانسداد دشتگردی کی خصوصی عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر لی

ایبٹ آباد: : ملک طاہر اقبال قتل کیس میں ملوث ملزم فرمان اللہ نےانسداد دشتگردی کی خصوصی عدالت سے عبوری ضمانت حاصل کر لی
تفصیلات کے مطابق عبوری ضمانت میں 26مئ تک توسیع فریقین اور سی ٹی ڈی کو ریکارڈ و حاضری کے لیے انسداد دشتگردی کے جج بریسٹراختیار خان نے نونسز جاری کر دیے گزشتہ روز مفرور ملزم فرمان اللہ نے یوسف شاہ ایڈوکیٹ کے توسعت سے درخواست داہر کی ملزم فرمان اللہ نے چند یوم قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مردان کی عدالت سے سفری ضمانت کرو رکھی تھی جو گزشتہ روز انسداد دشتگردی کی خصوصی عدالت سے عبوری ضمانت کرواہئ اس ضمن میں زرائع نے بتایا کہ 13 ستمبر 2020 کو ملک طاہر اقبال کی گاڑی پر نامعلوم ملزمان نے موضع کوٹیرہ کے مقام پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ملک طاہر اقبال اور سردار گل نواز موقع پر جاں بحق ہوئے اور ہمراہ 2 افراد زخمی ہوئے۔ مقتول کے بھائی نوید اقبال کی مدعیت میں تھانہ سی ٹی ڈی ہزارہ ریجن میں مقدمہ علت 07/20 جرم 302.334.427.34PPC-7ATA درج رجسٹر ہوا۔ انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے مقدمہ کا نوٹس لیتے ہوئے ریجنل پولیس آفیسر ہزارہ کی زیر نگرانی میں ماہر افسران پولیس کے نامعلوم ملزمان کو ٹریس کرنے لئے JIT ٹیم تشکیل دی گئی۔ JIT ٹیم نے ابتدائی تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے جائے واردات سے 02 عدد موٹر سائیکل برآمد کئے۔ موٹر سائیکل کی چیکنگ کے بعد ایک موٹرسائیکل رضا محمد اور دوسرا موٹر سائیکل عالمزیب ساکنان غازی کے زیر استعمال ہونا پایا۔ جو کہ فیصل زمان کے عرصہ دراز سے ملازم ہے۔ پولیس نے ان کے گھروں پر چھاپہ زنئی کی تو عدم دستیاب ہوئے مزید معلومات پر پتہ چلا کہ دونوں ملزمان جناح انٹر نیشنل ائیر پورٹ کراچی سے بیرون ملک فرار ہوگئے ہیں۔ مقدمہ میں مزید جدید سائنسی خطوط، ٹیکنکل ذرائع، انٹیلی جنس معلومات اور جیو فینسنگ کے ذریعے تفتیش کا عمل جاری رکھتے ہوئے متعدد مشتبہ گان اور ایم پی اے فیصل زمان کے ملازمان کو بھی انٹاروگیٹ کیا گیا۔ دوران انٹاروگیشن معلومات ہوئی کہ کچھ روز سے 5/6 افراد ایم پی فیصل زمان کے بنگلہ پر رہائش پذیر ہیں۔ جنکی معلومات کی گئی اور مقدمہ میں ملزم شیر غازی اور رحمت اللہ ساکنان بٹگرام کو گرفتار کیا۔ جہنوں نے روبر و عدالت بتلایا کہ ایم پی اے فیصل زمان، تنویر احمد ڈرائیور ایم پی اے اور فرمان اللہ کی ایماء پر اپنے دیگر ساتھیوں عزیرالرحمن، نقاب، زوہیب اور شیر علی ساکنان بٹگرام کے ساتھ مل کر ملک طاہر اقبال پر اس کے دوست کو بعوض مبلغ 20 لاکھ پر قتل کیا۔ ایم پی فیصل زمان نے مقدمہ میں نامزدگی کے بعد دہشت گردی کی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کروائی۔جوکہ مورخہ 11.01.2020 کو خارج ہونے پر حراست پولیس ہوا۔ دوران تفتیش وجہ عدوات پایا گیا کہ فیصل زمان کے خلاف جعلی ڈگری کیس اور سینٹ الیکشن میں ٹکٹ بیچنے پر اس کوپاکستان تحریک انصاف سے نکالنا سامنے آیا جو کہ وجہ قتل بنی۔ مقدمہ میں رپورش ملزمان کی گرفتاری کے لئے مختلف مقامات پر کاروائیاں جاری ہیں۔ 02 ملزمان جو کہ بیرون ملک فرار ہوگئے تھے جنکی گرفتاری کے لئے بھی انٹر پول سے رابطہ کیا گیا ملزم فرمان اللہ نے سیشن جج مردان کی عدالت سے سفری ضمانت کرو رکھی تھی 20مئ کو انسداد دشتگردی کی خصوصی عدالت پیش ہونے کے احکامات جاری کئے گئے تھے جو گزشتہ روز ملزم نے دوبارہ عدالت سے عبوری ضمانت کرو لی عدالت نے فریقین کونوٹسزز جاری کرتے ہوئے 26 مئ تک توسیع کردی

Tahir Iqbal Murder case

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں