Urdu News

معیاری محفوظ اور باسہولت سفری سہولیات کے بانی ’’کریم‘‘ کی خدمات کا دائرہ ایبٹ آباد اور مانسہرہ تک وسیع
’’کریم ڈبا‘‘ سروسیز کا آغاز مقامی آمدورفت میں انقلابی پیشرفت ثابت ہوگا: مومنہ راجپوت

ایبٹ آباد : پاکستان کے ’پندرہ شہروں‘ میں پبلک ٹرانسپورٹ سہولیات میں اضافے اُور معیار بہتر بنانے والے ادارے ’’کریم (Careem)‘‘ نے اپنی خدمات کا دائرہ صوبائی دارالحکومت پشاور کے بعد ایبٹ آباد اُور مانسہرہ تک وسیع کر دیا ہے۔ بدھ (چھ دسمبر) کے روز ’کریم ڈبا (Careem Dabba)‘ کے نام سے نئی سروسیز کا آغاز کیا گیا‘ جس کے تحت پچاس روپے سے سوزوکی ڈبے کی سواری ممکن ہوگی۔ اِس موقع پر ایک رنگارنگ تقریب کا انعقاد ’ہوٹل ون‘ میں کیا گیا جس کے اختتام پر تیس گاڑیوں پر مشتمل ’ریلی‘ بھی نکالی گئی‘ جو ایبٹ آباد کے مختلف حصوں سے ہوتی ہوئی ’ہوٹل ون‘ پر اختتام پذیر ہوئی۔
افتتاحی تقریب میں ایبٹ آباد کے تعلیمی و دیگر نجی اداروں کے نمائندوں کو بھی بطور خاص مدعو کیا گیا تھا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ مومنہ راجپوت (جنرل منیجر خیبرپختونخوا) نے ’کریم‘ کا تعارف اور ’کریم ڈبا سروسیز‘ کو ایک انقلابی پیشرفت قراردیا۔ اِس موقع پر سبطین نقوی (ہیڈ آف پبلک آفیئرز)‘ خضر لودھی (سٹی لیڈ)‘ بلال الدین احمد (سپلائی منیجر خیبرپختونخوا) اور ایبٹ آباد میڈیا منیجر اویس علی شاہ بھی موجود تھے۔ محترمہ مومنہ راجپوت نے ’کریم‘ کو ایک باعزت اور باوقار روزگار کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ کریم پاکستان نے ’آن لائن‘ وسائل کا استعمال کرتے ہوئے ملک میں نہ صرف لاکھوں روزگار کے مواقع فراہم کئے ہیں بلکہ پبلک ٹرانسپورٹ کو معیار کی ایک نئی بلندی سے بھی روشناس کرایا ہے۔ انہوں نے ’’کریم‘‘ کی خدمات کا احاطہ کرتے ہوئے مستقبل کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا اور اِس یقین کا اظہار کیا کہ پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کریم کے ذریعے انقلابی اقدامات متعارف کرانے کے ساتھ ہزارہ ڈویژن میں سیاحت کے فروغ کی حکمت عملی پر بھی جلد عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ اُنہوں نے تعلیمی اداروں کے شہر ایبٹ آباد میں طلباء و طالبات کی ’پک اینڈ ڈراپ‘ کی سہولیات منظم اور فراہم کرنے کا بھی ذکر کیا جس کے لئے ایک تجرباتی (پائلٹ پراجیکٹ) زیرغور ہے۔ محترمہ مومنہ راجپوت نے کریم کی خصوصیات کو ’محفوظ‘ آرام دہ اور معیاری‘ قرار دیتے ہوئے ’کریم ٹیم‘ کا حصہ اہلکاروں کو زیادہ محنت اور لگن کے مظاہرے کی تلقین بھی کی۔ انہوں نے چلو چلو ڈبے پہ چلو کے نعرے کے ساتھ ’’کریم ریلی‘‘ میں حصہ لینے والی تیس گاڑیوں کے کیپٹن کو مبارک باد دی اور کہا کہ کریم کی خدمات ک اجرأ خیبرپختونخوا کے دیگر شہروں سے بھی عنقریب کیا جائے گا۔

پشاور، ۔پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیم کی حفاظت پر مامور ایک پاکستانی پولیس اہلکار کو منگل کے روز گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ، یہ بات پولیس نے بتائی ۔

دسمبر کے بعد سے اس قسم کے حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 20ہو گئی ہے ، کسی گروپ نے ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم طالبان دھڑے نے گزشتہ سال قبائلی علاقے وزیرستان میں پولیو کے قطرے پلانے پر پابندی عائد کردی تھی اور الزام عائد کردیا تھا کہ یہ مہم جاسوسی کی آڑ میں چلائی جارہی ہے ۔

پولیو کے قطروں سے متعلق ان افواہوں کے ، مسلمانوں کی مردانہ قوت کو ختم کیا جارہا ہے ، کی وجہ سے بھی انتہائی موذی مرض پر قابو پانے کی کوششوں پر اثر پڑا ہے ۔

منگل کے روز ہلاکت کا واقعہ شمال مغربی قصبہ مردان کے نواحی علاقے غلہ دیر میں تین روز انسداد پولیو مہم کے دوسرے روز پیش آیا ۔

مردان کے ضلعی پولیس سربراہ دانشور خان نے اے ایف پی کو بتایا کہ قطرے پلانے والی خواتین ارکان پولیو کے قطرے پلانے کے لئے ایک گھر میں داخل ہوئیں ، ٹیم کی حفاظت پر مامور ایک پولیس اہلکار گھر کے باہر ان کا انتظار کررہا تھا ۔

انہوں نے مزید بتایاکہ موٹرسائیکل سوار دو افراد آئے اور انہوں نے فائرنگ کرکے پولیس اہلکار کو ہلاک کردیا ۔

پاکستان ،افغانستان اور نائیجریا واحد ممالک ہیں جہاں پولیو کی موذی بیماری پائی جاتی ہے ۔

اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں 2011ء میں پولیو کے 198کیسز سامنے آئے جو کہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں سب سے زیادہ سامنے آنیوالے اعداد وشمار تھے اور یہ دنیا میں کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ کیسز تھے ۔

جنوری میں دو پولیو ورکرز ، ایک پولیس اہلکار اور پولیو کے قطرے پلانے والے ایک خیراتی ادارے کے سات ارکان کو شمال مغربی علاقے میں تین علیحدہ علیحدہ واقعات میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا ۔

دسمبر میں مسلح افراد نے کراچی اور شمال مغرب میں پولیو قطرے پلانے والے 9 ہیلتھ ورکرز کو گولی مار کر ہلاک کردیاتھا۔

کیٹاگری میں : News

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں