موٹر وے زیادتی کیس ایبٹ آباد میں خواتین کا احتجاجی مظاہرہ

ایبٹ آباد : ملک کے اندر لاقانونیت کے سبب دن بدن خواتین کے ساتھ عصمت دری کے واقعات میں اصافہ ہو رہا ہے گزشتہ ہفتے موثر وے پر بچوں کے سامنے ایک معزز ماں کی عزت کو پامال کرنے کے واقعے نے ملک و قوم کی ملی غیرت کا جنازہ نکال دیا ہے لہذا حکومت وقت فوری طور پر ریپ کے واقعات میں ملوث مجرموں کو سرے عام سزائے موت دینے کیلئے پارلیمنٹ اور سینٹ آف پاکستان سے متفقہ قانون پاس کروائے اور لاھور کے قریب موٹر وے پر ایک معزز ماں کے ساتھ ریپ کرنے والے ملزمان کو گرفتار کر کے سزائے موت دی جائے ان خیالات کا اظہار پریس کلب ایبٹ آباد کے سامنے سول سوسائٹی اور سابقہ ایم پی اے آمنہ سردار چائیلڈ پروٹیکشن کے کوآرڈینیٹر ادریس ایڈوکیٹ عاشقان ختم نبوت کی چیئرپرسن شائستہ چوہدری ایڈووکیٹ و دیگر سماجی تنظیموں کے مردوں خواتین وکلاء کا احتجاجی مظاہرہ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور قطبے آٹھا رکھے تھے مظاہرین موٹر وے پر خاتون کے ساتھ ریپ کرنے والے مجرموں کی فوری گرفتاری اور اور سزائے موت دینے کا مطالبہ کر رہے تھے مظاہرین کا کہنا تھا اس طرح کے آئے روز کے حادثات سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت اپنی رٹ کھو چکی ہے حکومت کو چاہے کے اپنی رٹ کو قائم کرنے کیلئے ایسے حادثات کے خاتمے کے لیئے فوری طور پر سخت سے سخت قوانین پاس کر کے ملزموں کو سرے عام سزائے موت دے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں