یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملنے والے عمیر نے تاریخ رقم کردی ینگ سائنٹسٹ کا ایواڈ نام کر لی

تفصیلات کے مطابق ایبٹ آباد کے رہاشی عمیر جس نے کم عمری میں ہی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور موروثی بیماریوں کے شکار افراد کے مرض کا جلد اور سستے طریقے سے پتا چلانا اور دوسرے کسی جاندار اور کے جین حاصل کر کے کسی کو منتقل کیا جا سکے کی تحقیق پر 121 ممالک کے شرکاء میں پہلی پوزیشن لی.
عمیر مسعود نے کہا کہ آ سڑیلیا میں منعقد کانفرنس میں121 مملک کے طالب علم پروفیسر پی ایچ ڈی اور سائنسداں نے شرکت کی وہ واحد پاکستانی تھے کانفرنس میں شرکت کی فیس بھی نہیں تھی اس کو فری شرکت کی اجازت ملی۔
ایک سال کم نمبر ہونے پر یونیورسٹی میں داخلہ نہ ملنے والے عمیر نے تاریخ رقم کردی ینگ سائنٹسٹ کا ایواڈ نام کر لیا
عمیر مسعود کامسیٹس یونیورسٹی ایبٹ آباد میں بائیو ٹیکنالوجی کے چوتھے سمیسٹر کے طالب علم ہیں۔ وہ دو بھائی ہیں۔
عمیر مسعود کے ماموں محمد ریاض کا کہنا ہے کہ ’عمیر اپنی پیدائش ہی سے مختلف مسائل اور موروثی بیماری کا شکار تھا۔ اب بھی اس کا چھوٹا بھائی اس سے بڑا لگتا ہے۔ بچپن میں اس کی پرورش اس کی ماں اور دادی نے بڑی محنت سے کی تھی۔ کھیل کود تو زیادہ کر نہیں سکتا تھا مگر پڑھائی میں بھی اچھا نہیں تھا۔ اس پر فخر ہے۔
عمیر کے تحقیقی مقالہ ’انوینٹرو سائیڈ سپیکف ڈی این اے ایڈیٹنگ وایا ریسٹریکشن‘ کے عنوان سے رائل سوسائٹی آف سائنس جریدے نے شائع کیے تو اس کی قسمت ہی کھل گی۔
عمیر مسقبل میں کینسر پر کچھ تحقیق کرنا چاہتا ہے تاکہ اس بیماری کا بھی حل نکل سکے۔

young-talent-got-scientist-award
Abbottabad

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں